نون لیگ پورے نظام کو ساتھ لے کر ڈوبنا چاہتی ہے، ترجمان تحریک انصاف

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب مسلم لیگ (ن) کی کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو وہ پورے نظام کو اپنے ساتھ لے کر ڈوبنے کی کوشش کرتی ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ تصویر لیک ہونے یا نہ ہونے سے تفتیش پر براہ راست کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم حکومت نے خاص طریقے سے سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کے خلاف بدنام کرنے والی مہم چلائی، جس میں ایک میڈیا گروپ نے نا صرف اس کا پورا ساتھ دیا بلکہ یہ میڈیا گروپ (ن) لیگ کا میڈیا سیل بنا رہا جس کے باعث پی ٹی آئی نے بھی اس کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ پہلے تو واٹس ایپ کی کال کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف اور پھر جے آئی ٹی کے خلاف توہین آمیز مہم چلائی گئی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ عدلیہ نے تصویر لیک کی رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور رپورٹ میں تصویر لیک کرنے والے کا نام شامل ہے۔ نواز شریف حکومت مسلسل جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کررہی ہے۔ جب ن لیگ کی کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو وہ پورے نظام کو لے کر ڈوبنے کی کوشش کرتی ہے۔ تحریک انصاف سول بالادستی کے لیے کام کررہی ہے اور ہر قیمت پر نظام کو بچائے گی۔ کوئی خواب میں بھی جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے کا نہ سوچے۔
ترجمان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے خلاف مہم چلانے اور تحقیقات میں روڑے اٹکانے کا واحد مقصد نظام کو ڈبونا ہے۔ پی ٹی آئی نظام کو بچائے گی۔ پاکستان میں احتساب بھی ہوگا اور انتخاب بھی۔ (ن) لیگ نظام پر یقین نہیں رکھتی۔ اگر اس کا دامن صاف ہے تو دامن نچوڑ کر رکھ دے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ دو آسان سوالات ہیں کہ 1993 سے 2006 کے دوران اپارٹمنٹس کی رقم کہاں سے آئی اور فلیٹ کس کے نام تھے۔ جواب دینے کی بجائے سپریم کورٹ پر حملہ کیا جارہا ہے اور جے آئی ٹی کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔ کیس کے مرکزی کردار نواز شریف ہیں، جنہوں نے پیسے چھپانے کے لیے پہلے والد کو اور پھر بچوں کو عدالت میں گھسیٹا۔ تین نسلوں کا احتساب تو انہوں نے خود ہی کروایا ہے۔ پیسے چھپانے کے لیے ایک جھوٹ بولو تو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی میڈیا ایک طاقتور میڈیم ہونے کے باوجود اب بھی کمزور ہے

پاکستانی میڈیا ایک طاقتور میڈیم ہونے کے باوجود اب بھی کمزور ہے

اسلام آباد: پاکستانی میڈیا کے چار میں سے تین میڈیمز میں جو میڈیا ہاؤسز پچاس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے