جے آئی ٹی میں پیش ہوکر فوجی آمر اور جمہوری لوگوں میں فرق بتا دیا، شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریہف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور انہوں نے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر بتا دیا کہ اقتدار پر شب خون مارنے والوں اور جمہوری لوگوں میں کیا فرق ہے۔ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ ہم عدالتوں اور قانون کا احترام کرتے ہیں، جے آئی ٹی نے انہیں پیشی کا نوٹس بجھوایا تھا، انہوں نے جے آئی ٹی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان بھی اسی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف اور میں نے پیش ہوکر قانون کی حکمرانی کی حقیر خدمت کی اور عقل اور عاجزی سے اپنا موقف پیش کیا۔ شہبازشریف نے پرویزمشرف کا نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی میں پیش ہوکر بتا دیا کہ اقتدار پر شب خون مارنے والوں اور جمہوری لوگوں میں کیا فرق ہے۔ فوجی آمر کا عدالت اور قانون سے متعلق رویہ لوگوں نے دیکھا ہے، اس سے ثابت ہوا ہم منتخب سیاستدانوں کے دلوں میں قانون کا بڑا احترام ہے۔ انہیں کافی عرصے سے کمر کی تکلیف ہے لیکن اس کا بہانہ نہیں بنایا، اس وجہ سے راولپنڈی کے ادارے میں داخل نہیں ہوئے۔ اتفاق فاونڈری کو ان کے والد اور بھائیوں نے کسی اثر و رسوخ سے عروج نہیں دیا تھا بلکہ محنت کی تھی، ہمیں ایسے باپ کے بیٹے ہونے پر فخر ہے جس کو لوگ امانت اور دیانت کا امین جانتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ شریف خاندان کا احتساب پہلی بار نہیں ہو رہا، ہمارا پہلا احتساب ذوالفقار علی بھٹو، دوسرا اور تیسرا بینظیر بھٹو جبکہ چوتھا احتساب پرویز مشرف دور میں ہوا، اب ہمارا پانچواں احتساب ہو رہا ہے، یہ احتساب کسی سرکاری خردبرد کا یا کرپشن کا نہیں ہو رہا ہے، ہر احتساب میں ہمارے ذاتی کاروبار کو نشانہ بنایا گیا۔ بینظیر دور میں ہمارے خاندان کے کاروبار کو تباہ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی، پانچوں احتساب میں آج تک ہمارے خلاف کوئی کرپشن کا کیس نہیں۔ ہم نے قرضوں کی واپسی میں رعایت لی نہ معاف کرائے، اتفاق فاونڈری نے بینکوں کے پونے 6 ارب روپے ادا کئے۔ آج اگر کسی یتیم کو تعلیم نہیں ملتی تو وہ ماضی کی کرپشن کی بدولت ہے۔ شہبازشریف نے مزید کہا کہ یہ مٹی ہماری ہے اور اس سے ہمیں بہت پیار ہے، ایک نہیں کروڑوں بار حساب لیں، پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف اور مجھے ہتھکڑیاں لگائی گئیں، ہمارے خلاف کرپشن کیس پہلے تھا نہ آیندہ ہوگا لیکن احتساب کے نام پر ہمارا ذاتی کاروبار تباہ کیا گیا، خدا کا خوف کریں، ایک نہیں کروڑوں بار حساب لیں اور لندن کینیڈا میں گھر بنانے والوں اور پاور پروجیکٹس میں کریشن کرنے والوں سے بھی پوچھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

سپریم کورٹ, کے دو رکنی بینچ نے, اورنج لائن میٹرو, منصوبے کے, مقدمے کی, سماعت

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اورنج لائن میٹرو منصوبے کے مقدمے کی سماعت

اسلام آباد: جسٹس گلزار نے اورنج ٹرین منصوبے کی رفتار پر پراجیکٹ ڈائریکٹر فضل حلیم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے