یوم علی کے موقع پر سینٹرل جیل سے دہشت گردوں کا فرار ہونا انتہائی مشکوک ہے، علامہ مختار امامی

کراچی: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی نے کراچی سینٹرل جیل سے کالعدم لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان کے دو خطرناک قیدیوں کے فرار کو جیل عملے کی ملی بھگت قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں علامہ مختار امامی نے کہا کہ سخت ترین سیکورٹی میں بغیر کسی مدد کے جیل سے فرار ہونا ممکن نہیں، ملکی امن و سلامتی کے ذمہ دار اداروں میں دہشتگردوں سے فکری مطابقت رکھنے والے افراد کی موجودگی خطرناک ہے، دہشتگردوں کو فرار میں معاونت فراہم کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قومی اداروں میں موجود اس طرح کے سہولت کار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک بھر میں یوم شہادت حضرت علی علیہ السلام کے سلسلے میں عزاداری کے پروگراموں کا انعقاد جاری ہے، مختلف شہروں سے مرکزی جلوس برآمد ہونے ہیں، جہاں عزاداروں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے، ایسے موقع پر دہشت گردوں کا فرار مختلف شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔

علامہ مختار امامی نے کہا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا، تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ملک کے بعض جیلوں سے ایسے خطرناک قیدیوں کو فرار کرایا گیا، جو دہشت گردی کے سنگین ترین واقعات میں ملوث تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات کا تسلسل عوام کے لئے عدم تحفظ کے احساس میں تقویت کا باعث اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، حکومت کو عوام کی جان و مال کی اہمیت کا ادارک کرنا چاہیے۔ مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ یوم علیؑ کے موقع پر ملک کے تمام شہروں میں فول پروف سیکورٹی کی فراہمی میں کسی قسم کو کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے، تاکہ موقع پرست اور ملک دشمن دہشتگرد عناصر کو شرپسندی کا کوئی موقع نہ مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں

پانی سے محروم کراچی میں بسنے والے کچھ خاندان

کراچی: ماریہ اور محمد عباس اختر کالونی کے رہائشی ہیں۔ یہاں کے رہائشیوں کو جہاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے