بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات داعش کی موجودگی کا واضح ثبوت ہیں، ملک عبدالولی کاکڑ

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ ابھی بھی کالعدم تنظیمیں موجود ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ اور حکومتی ترجمان اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے داعش کے وجود سے انکاری ہیں۔ سریاب روڈ پر پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی۔ اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں جس طرح کوئٹہ شہر میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے اور ان تمام تر واقعات کی ذمہ داری داعش نامی تنظیم نے قبول کی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام تر صورتحال کے باوجود حکومتی نمائندے بلوچستان میں ان کے وجود سے انکاری ہیں۔ عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ حکومت عوام سے جھوٹ بول کر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں سچ بولنا ہوگا، کیونکہ سچ بولنے سے حقائق سامنے آجاتے ہیں۔ بلوچستان بھر میں داعش کی وال چاکنگ کی جا رہی ہے۔ تاہم اس تمام تر صورتحال کے باوجود حکومتی ترجمان اور وزیر داخلہ مذکورہ تنظیم کی موجودگی سے انکاری ہیں۔ ایک بار پھر بلوچستان کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے یہ لوگ جان بوجھ کر اسمگلنگ کو فروغ دے رہے ہیں

قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے یہ لوگ جان بوجھ کر اسمگلنگ کو فروغ دے رہے ہیں

کوئٹہ: بدرالدین کاکڑ کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ کا ایوانِ صنعت و تجارت قانونی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے