شام میں امریکی بمباری سے شہری آبادی کا بھاری جانی نقصان ہو رہا ہے، اقوام متحدہ

یویارک: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ شام میں داعش کے خلاف جنگ میں مصروف امریکی اتحاد کی بمباری میں عام شہریوں کا بھاری جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی شام کے شہر رقہ میں امریکا کی سربراہی میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں خوفناک حد تک جانی نقصان ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے آزاد تحقیقاتی کمیشن برائے شام کے چیرمین پاؤلو پنہیئرو کا کہنا تھا کہ اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں میں شدت آ چکی ہے۔ داعش کو تیزی سے شکست ہو رہی ہے لیکن یہ کامیابی وہاں انسانی جانی نقصان کی قیمت پر حاصل نہیں ہونی چاہیئے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے خبردار کیا کہ فوجی آپریشن کی وجہ سے رقہ کی پہلے سے خراب صورت حال مزید بدترہو رہی ہے، شہر کا بنیادی ڈھانچہ تباہ اور ضروریات زندگی بشمول خوراک، ایندھن اور ادویات کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے داعش کا گڑھ تصور کئے جانے والے شام کے شہر رقہ میں رواں برس مارچ میں آپریشن شروع ہونے کے بعد سے اتحادی فوج کے حملوں میں اب تک 600 سے زیادہ عام شہری جاں بحق اور ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

باربی کیو پارٹی سے جنگل میں آگ، طالب علموں پر ڈھائی کروڑ یورو جرمانہ

باربی کیو پارٹی سے جنگل میں آگ، طالب علموں پر ڈھائی کروڑ یورو جرمانہ

اٹلی کے جنگلات میں بڑے پیمانے پر آتشزدگی کا باعث بننے والے دو طالبعلموں پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے