سعودی بائیکاٹ کے باعث قطر میں غذائی قلت، مراکش نے بھی امدادی اشیاء بھجوا دیں

رباط: خلیجی ممالک کے درمیان تنازعے کے بعد قطر میں غذائی قلت پیدا ہونے کے باعث مراکش نے بھی قطر کی غذائی ضروریات پورا کرنے کے لئے طیارہ روانہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق مراکشی حکومت نے قطر کے لیے خوراک سے بھرا جہاز روانہ کردیا ہے تاکہ سعودی عرب کی جانب سے زمینی سرحد بند ہونے کے باعث قطر میں پیدا ہونے والی خوراک کی کمی کو دور کیا جاسکے۔جبکہ مراکش کی وزارتِ خارجہ کے مطابق خوراک سے بھرا طیارہ بھجوانے کا فیصلہ رمضان کے ماہِ مقدس اور اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی اسلامی تعلیمات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔مراکش، ترکی اور ایران کے بعد تیسرا مسلم ملک ہے جس نے عرب ملکوں کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد اسے خوراک کی فراہمی کی پیش کش کی ہے۔

واضح رہے کہ قطر فی کس آمدنی کے اعتبار سے دنیا کا امیر ترین ملک ہے جو تین جانب سے سمندر میں گھرا ہوا ہے اور اس کی زمینی سرحد صرف سعودی عرب سے ملتی ہے۔قطر اپنی ضرورت کی 80 فی صد خوراک پڑوسی خلیجی ریاستوں سے درآمد کرتا تھا جن کی جانب سے قطر کے سفارتی اور معاشی بائیکاٹ اور اس کے ساتھ زمینی، فضائی اور بحری راستے بند کرنے کے بعد قطر میں خوراک کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ گزشتہ ہفتے سعودی حکام کی جانب سے سرحد کی اچانک بندش کے بعد سرحد پر قطر کے لیے خوراک اور دیگر ضروری اشیا لے جانے والے ٹرکوں کی قطار لگ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

خلیج میں مزید امریکی فوج بھیجنے پر روس اور چین کا شدید ردِ عمل

خلیج میں مزید امریکی فوج بھیجنے پر روس اور چین کا شدید ردِ عمل

ماسکو: روس اور چین نے امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے