عمران خان چٹھیاں لکھ لکھ کر عدالت سے استثنیٰ مانگتے ہیں، مریم اورنگزیب

اسلام آباد:وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عدالتوں سے بھاگنے کا کام عمران خان نے کیا جو چٹھیاں لکھ لکھ کر عدالت سے استثنیٰ مانگتے ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے عدلیہ کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا اور عدلیہ کے رتبے کو بحال کرنے کے لیےسڑکوں پرنکلے اور اب بھی وزیراعظم قانون کی حکمرانی کےلیے تاریخ درج کرنے جارہے ہیں اور انہوں نے عدلیہ کی تعظیم میں جمعرات کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آج فخر ہے کہ پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے، وزیراعظم نےقوم سےخطاب میں کہا تھا جب سپریم کورٹ بلائے گی میں ضرور جاؤں گا انہوں نے ہی جے آئی ٹی بنانے کے لیے خط لکھا تھا اوراب جب جے آئی ٹی کی طرف سے سمن بعد میں آیا وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں جانے کا فیصلہ پہلے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کسی کو کمر درد، دل کی تکلیف، کبھی دماغی توازن ٹھیک نہ ہونےکا بہانہ بنایا گیا بلکہ کسی نے تو دماغی امراض سے متعلق سرٹیفیکٹ بھی جمع کرائے۔وزیرمملکت نے کہا کہ عدالتوں سے بھاگنے کا کام عمران خان نے کیا اور چٹھیاں لکھ لکھ کر قانون سے استثنیٰ مانگتے ہیں، 2018 میں عمران خان کا جو حال عوام کرے گی۔ انہیں کہنا پڑے گا یاد ماضی عذاب ہے یارب، چھین لے مجھ  سے حافظہ میرا۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنما دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ ہماری خواہش تھی کہ ہمارے تحفظات پر بھی بات کی جائے اور حسین نوازکے چند تحفظات کو جے آئی ٹی نے بھی تسلیم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عدالت میں واٹس ایپ کال اور جے آئی ٹی کی دھمکیوں پر بات ہوئی، جے آئی ٹی میں گواہوں کو کہا جارہا ہے کہ جلتی آگ میں کیوں پاؤں دینے آئے ہو، لوگوں کو جھوٹا بولا جارہا ہے نیشنل بینک کے صدر نے بھی شکایات کی ہیں۔ دانیال عزیز نے کہا کہ جو معاملہ جمالی بینچ اور کھوسہ بینچ میں طے نہ ہو پایا اب جے آئی ٹی میں آگیا ہے کیا یہ جے آئی ٹی محض وقت تو ضائع نہیں کررہی ہم اس کی رپورٹ پڑھ کر اپنا رد عمل دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

سپریم کورٹ, کے دو رکنی بینچ نے, اورنج لائن میٹرو, منصوبے کے, مقدمے کی, سماعت

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اورنج لائن میٹرو منصوبے کے مقدمے کی سماعت

اسلام آباد: جسٹس گلزار نے اورنج ٹرین منصوبے کی رفتار پر پراجیکٹ ڈائریکٹر فضل حلیم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے