عدالتی نہیں انتظامی احتساب کا سامنا ہے، حسین نواز

اسلام آباد: وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہے کہ انہیں عدالتی نہیں انتظامی احتساب کا سامنا ہے لیکن سپریم کورٹ اور عوام کے سامنے سچ آنے تک احتساب کا سامنا کرتے رہیں گے۔ جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی سربراہی میں پاناما جے آئی ٹی کے روبرو چوتھی مرتبہ پیش ہوئے اور ارکان کے سوالات کے جواب دیئے۔ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ قانون کی پاسداری کی اور درس دیا ہے، انہیں ابھی جے آئی ٹی میں نہیں بلایاگیا، میں نے اور خاندان نے پہلے بھی احتساب کا سامنا کیا۔ ہم پر لگائے گئے الزامات نئے نہیں، ہم عدالتی نہیں انتظامی احتساب کا بھی سامنا کرچکے ہیں لیکن آج تک ہم پر عائد کوئی الزام بھی ثابت نہ ہوسکا۔ اگر ان میں کوئی حقیقت ہوتی تو اب سامنے آچکی ہوتی، اب تو طیارہ سازش کیس کی حقیقت بھی سامنے آچکی ہے۔

وزیر اعظم کے صاحبزادے نے کہا کہ جو سمجھتے تھے کہ ہم احتساب سے بھاگ جائیں گے وہ شرمندہ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مرحلہ خوش اسلوبی سے طے ہو جائے اور جے آئی ٹی نے جتنی بار ہمیں بلایا پیش ہوں گے۔ مشرف دور میں 14 ماہ تک ناصرف ہم بلکہ گواہان بھی جیلوں میں رہے، کوئی ثبوت ہوتا تو پرویز مشرف کے دور میں سامنے آچکا ہوتا۔ سپریم کورٹ اور عوام کےسامنے سچ آنے تک احتساب کا سامنا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے بے شمار گواہان کو طلب کیا ہے۔ متعدد دستاویزی ثبوت جے آئی ٹی میں پیش کیے ہیں۔ لندن فلیٹس متنازع نہیں سپریم کورٹ میں اس بارے میں موقف پیش کیا جاچکا ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز چوتھی بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو پارٹی رہنما مخالفوں پر خوب گرجے برسے، آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ یہ ڈوگر کورٹ کا زمانہ نہیں، ہمیں ججز پر اعتماد ہے، نواز شریف اور ان کا خاندان سرخرو ہوگا جبکہ اپوزیشن میں بیٹھے افراد کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ پانامہ کیس پر قائم جے آئی ٹی میں وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی چوتھی پیشی پرجوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ بتانا چاہتا ہوں، عدالتوں کا احترام کس نے کیا اور کس نے نہیں، ہم پر تنقید کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، آصف کرمانی نے کہا کہ عمران خان تو 3 سال کا حساب نہ دے سکے اور ہم 70 سال کا حساب دے رہے ہیں، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حسین نواز کی بیرون ملک سے جے آئی ٹی کے سامنے پیشی عدلیہ کے احترام کا ثبوت ہے، اگر ہم اداروں اور اپوزیشن کا احترام کرتے ہیں تو دوسروں کو وزیراعظم کے منصب کا بھی احترام ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ نون کے رہنماوں نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر محسوس ہوا کہ ہم سے ہٹ کر برتاؤ کیا جا رہا ہے تو اعلیٰ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

اسلام آباد: این ڈی ایس کی جانب سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے