حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش، ساڑھے 5 گھنٹے کا طویل بیان ریکارڈ کرا دیا

اسلام آباد: وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے روبرو دوسری مرتبہ پیش ہوگئے ہیں اور تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے تک بیان ریکارڈ کرایا۔ جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کی زیرصدارت پاناما لیکس جے آئی ٹی کی تفتیش جاری ہے، منگل کے روز وزیراعظم کے سب سے بڑے صاحب زادے حسین نواز دوسری مرتبہ پیش ہوئے، جے آئی ٹی نے حسین نواز سے ان کی بیرون ملک جائیدادوں، اثاثوں اور کمپنیوں سے متعلق پوچھ گچھ کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے حسین نواز سے مے فیئر فلیٹس، ہل میٹلز لمیٹ، عزیزیہ ملز سمیت دیگر دستاویزات مانگی ہیں۔ اس سے قبل جب حسین نواز جوڈیشل اکیڈمی پہنچے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی اور وہ وزیراعظم اور حسین نواز کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔

دوسری جانب نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نے بھی جے آئی ٹی کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ حسین نواز اور سعید احمد کے بیان ریکارڈ کیے جانے کے دوران وفاقی جوڈیشل کمپلیکس میں پمز اسپتال کی ایک ایمبولینس پہنچی جس میں موجود ایک ڈاکٹر کی جانب سے تعارف کرائے جانے کے بعد ایمبولنس کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ ایمبولنس بھجوانے کے حوالے سے پمز انتظامیہ کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں طویل اجلاس کے باعث ایمبولینس طلب کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس میں نیب کے سامنے پیش

شاہد خاقان عباسی ایل این جی کیس میں نیب کے سامنے پیش

راولپنڈی: مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اس وقت کے وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے