ریاض کانفرنس نے امریکہ، بھارت اور اسرائیل کو مضبوط جبکہ امت مسلمہ کو کمزور کیا ہے، اعجاز ہاشمی

لاہور: جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر پیر اعجاز ہاشمی نے لاہور میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاکستان کو اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح کروانی چاہیے، قوم جواب چاہتی ہے کہ ابھی تک عسکری اتحاد کے ٹی او آرز ہی طے نہیں ہوئے تو پاکستان اس کا حصہ کیسے بن گیا؟ امت کو تقسیم کرنے کے کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہیے، جنرل راحیل شریف بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ سلمان کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف سمیت 30 سربراہان مملکت سے خطاب کا موقع نہ دینے پر معذرت خوش آئند ہے، لیکن اتحاد کی بجائے نفاق امت کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاض کانفرنس نے امریکہ، بھارت اور اسرائیل کو مضبوط جبکہ امت مسلمہ کو کمزور کیا ہے، 44 ممالک کے عسکری اتحاد سے واضح ہوگیا ہے کہ سب ایران سے خوفزدہ ہیں اور امریکی سرپرستی چاہتے ہیں۔ اعجاز ہاشمی نے کہا کہ جنرل راحیل شریف دعوے کرتے تھے کہ وہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح کیلئے کردار ادا کریں گے اور اگر عسکری اتحاد ایران کیخلاف ہوا تو وہ قیادت نہیں سنبھالیں گے، اب انہیں کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے، کیونکہ کانفرنس کا ہدف ایران ہی تھا، جس سے واضح ہو گیا کہ عسکری اتحاد کا مقصد اتحاد امت نہیں، مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا تھا، ٹرمپ نے سعودی عرب سے سیدھا اسرائیل کا دورہ کرکے عالم اسلام کو پیغام دیا ہے کہ وہ ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کو بچانے کیلئے مسلمانوں کو اکٹھے کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

وفاقی و صوبائی حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو نوٹس جاری

وفاقی و صوبائی حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو نوٹس جاری

لاہور: عدالت عالیہ میں جسٹس شہرام سرور اور جسٹس وحید خان پر مشتمل بینچ نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے