ٹیکسوں میں اضافے سے عوام پر 350 ارب کا بوجھ پڑے گا

اسلام آباد: حکومت نے بجٹ میں ٹیکس بم گرا دیا۔ عوام پر ٹیکسوں کا ساڑھے تین سو ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا۔ الیکٹرانک اشیاء، موبائل، ڈیری مصنوعات، شہد، مکھن، درآمدی کپڑا، پان، چھالیہ، اسٹیل مصنوعات، مشروبات، دہی اور سیمنٹ سمیت سینکڑوں اشیاء مہنگی کرنے کی راہ ہموار کردی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات پورے کرنے کیلئے امیروں پر سپر ٹیکس نئےسال میں بھی جاری رہے گا۔ تفصیلات کے مطابق، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کردی گئی ہے۔ 565 اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں پانچ سے پندرہ فیصد کا اضافہ کردیا گیا ہے، دہی، مکھن، ڈیری مصنوعات، ڈبہ پیک شہد، پنیر، پائن ایپل، مینگو، فروزن مچھلی اور مچھلی کے گوشت پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔

فنانس بل کے مطابق سیمنٹ پر ایکسائزڈیوٹی 1 روپے سے بڑھاکر 1.25 روپے فی کلو کر دی گئی ہے جبکہ 5 برآمدی شعبوں پر سیلز ٹیکس 5 سے بڑھا کر 6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈیویڈنٹس پر ٹیکس ساڑھے بارہ سے بڑھا کر پندرہ فیصد اور میوچل فنڈز سے حاصل ڈیویڈنٹس پر ٹیکس دس سے بڑھا کر ساڑھے بارہ فیصد کر دیا گیا ہے۔ فنانس بل کے مطابق ٹرن اوور پر ٹیکس ایک سے بڑھا کر ایک اعشاریہ پچیس فیصد کر دیا گیا ہے۔ بجٹ میں الیکٹرانک اشیاء پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.5 سے بڑھا کر ایک فیصد کر دیا گیا، پولسٹر دھاگے کی درآمد پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور ڈبہ بند مشروبات پر کسٹمز ڈیوٹی گیارہ سے بڑھا کر 20 فیصد کر دی گئی ہے۔

اسی طرح پان پر 200 روپے فی کلو اور چھالیہ پر ریگولیٹری ڈیوٹی پندرہ سے بڑھا کر25 فیصد کردی گئی ہے، اسٹیل مصنوعات پر ڈیوٹیز میں اضافہ کردیا گیا ہے اور درآمدی کپڑے پر چھ فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل کے سلنڈرہیڈ پر بھی اضافی ڈیوٹیز کا نفاذ کر دیا گیا ہے، موبائل کے فی سیٹ پر 250روپے کی کسٹمز ڈیوٹی کو ریگولیٹری ڈیوٹی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فریال تالپور کی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں

فریال تالپور کی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں

اسلام آباد: سندھ اسمبلی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی تاہم بدھ کے روز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے