روس سے تعلقات: ٹرمپ کے داماد بھی تفتیش کی زد میں

واشنگٹن: امریکا کے صدارتی انتخابات کے دوران روس کے ساتھ روابط کے حوالے سے اسکینڈل کا شکار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ اب ان کے داماد اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر بھی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی تحقیقات کی زد میں آگئے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ امریکی صدر کے داماد کے پاس اہم معلومات ہیں اور ان کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں وہ واحد فرد ہیں، جو تفتیش میں مدد کیلئے اہم تصور کیے جارہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ گذشتہ سال دسمبر میں روسی سفیر سے ممکنہ روابط اور ماسکو کے ایک بینکر سے ملاقات کے باعث کشنر سے تحقیقات کی جائیں گی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایف بی آئی افسر کا کہنا تھا کہ ان سے تفتیش کرنے میں دلچسپی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تفتیش کاروں کو شک ہو کہ انھوں نے جرم کیا ہے یا پھر ان کے خلاف کیس درج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس تفتیش کے لیے ایف بی آئی کے سابق سربراہ رابرٹ مولیر کو گذشتہ ہفتے ہی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ خیال رہے کہ امریکا کے محکمہ انصاف نے صدارتی الیکشن 2016 کے دوران روس سے مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے رابطے اور روس کی جانب سے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے تحقیقات کیلئے متعدد کمیٹیز اور خصوصی وکلا تعینات کیے ہیں۔

اس کے علاوہ ایف بی آئی بھی 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ممکنہ روسی مداخلت اور اس سے منسلک دیگر معاملات کی تفتیش کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اوپر لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی تھی تاہم اس کے بعد سے اب تک مختلف اوقات میں روسی سفیر اور ٹرمپ کے مشیروں کے درمیان ہونے والی 4 ملاقاتوں کی تصدیق کے حوالے رپورٹس سامنے آچکی ہیں۔

تاہم ان روابط کے بارے میں بتانے والے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں مذکورہ ملاقات میں کسی بھی غیر قانونی عمل (wrongdoing) کے شواہد نہیں ملے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس تفتیش کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تاریخ میں کسی بھی سیاست دان کے ساتھ اس طرح کا غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا گيا جیسا ان کے ساتھ رواں رکھا جارہا ہے اور یہ صرف انھیں نشانہ بنانے کے لیے ہے۔

یہ بھی پڑھیں

'اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

‘اگر ہم خطے میں حقیقی سلامتی چاہتے ہیں تو پھر اس کا حل امریکی جارحیت کو روکنا ہے

ایران : صدر حسن روحانی نے واشنگٹن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے