فاٹا اصلاحات کا پیکج قومی اسمبلی میں پیش، مولانا فضل الرحمان کی مخالفت

اسلام آباد: حکومت نے فاٹا اصلاحات کا پیکج قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ مولانا فضل الرحمن کی مخالفت، فاٹا کے پارلیمانی لیڈرحاجی شاہ جی گل آفریدی کے ساتھ تلخ کلامی۔ اجلاس کے پہلے ہی روز خوب ہنگامہ آرائی ہوئی۔ حکومت نے فاٹا اصلاحات کے لیے آئین میں 29 اور 30ویں ترامیم کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقہ جات رواج بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ نے بل کی مخالفت کی تو فاٹا ارکان کے پارلیمانی لیڈرحاجی شاہ گل آفریدی سے خوب تلخی بھی ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایک مخصوص طبقے کی خواہش پوری کرنے کے لیے فاٹا اصلاحات کا پیکج لایا گیا ہے۔ ان کی جماعت کے ساتھ مذاکرات میں جو بات کی گئی فاٹا اصلاحات پیکج اس کے برعکس ہے۔ فاٹا کے عوام سے پوچھے بغیر ان کا اسٹیٹس تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ پاک افغان بارڈر کو بین الاقوامی بارڈر تسلیم کرتے ہیں، سرحدی تبدیلیاں کرکے پڑوسی ممالک کے ساتھ مسائل میں اضافہ نہ کیا جائے، مولانا فضل الرحمن بولے کہ کون مائی کا لال ہے جو فاٹا کی عوام کا سودا کرے گا، میں کسی کو فاٹا کی عوام کا سودا نہیں کرنے دوں گا جس پر شاہ جی گل آفریدی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے تو مولانا نے انہیں جھڑک دیا۔ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ مولانا کی جماعت حکومتی حلیف ہے۔ مگر حکومت کے حلیفوں میں بھی اتفاق نظر نہیں آرہا۔ فاٹا اصلاحات کے بل کی مخالفت اپوزیشن نہیں حکومت کی صفوں میں سے کی جا رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر حکومت نے مولانا فضل الرحمن کو ٹھیس پہنچائی ہے تو پھر وہ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کریں۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ مولانا کو بھی ساری گیم کا پتہ ہے، بجٹ منظور کرانے کے بعد فاٹا اصلاحات غائب ہو جانی ہیں۔
ادھر شہاب الدین نے بھی مولانا فضل الرحمن پر تنقید کی۔ انہوں نے حکومت کو بھی دھمکی دی کہ اگر بجٹ سے قبل فاٹا اصلاحات نہ کی گئیں تو فاٹا ارکان مستعفی ہوجائیں گے۔ قومی اسمبلی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری پر دہشتگرد حملے کی مذمتی قرارداد بھی منظور کی جس میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں اور قوم ایسے حملوں سے مرعوب نہیں ہوں گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح ساڑھے بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

ایف بی آر, كی جانب سے, نوٹیفکیشن, بھی جاری, کردیا گیا

ایف بی آر كی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا

اسلام آباد: بینكوں كو یومیہ پچاس ہزار روپے سے زائد اور ایک ماہ میں دس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے