میکرون کے ساتھ فرانس ایک بہت ہی خطرناک دور سے گزر رہا ہے

میکرون کے ساتھ فرانس ایک بہت ہی خطرناک دور سے گزر رہا ہے

استنبول: فرانسیسیوں کو اپنے قائد کو معزول کرنا چاہیے اور 2018 میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بصورت دیگر وہ پیلے رنگ کی کی تحریک سے جان چھڑانے میں کامیاب نہیں ہوں گے

اردوان نے وضاحت کے بغیر کہا بعد میں پیلے رنگ کی واسکٹ سرخ رنگ کی واسکٹ میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
بار بار مشورہ دیتے رہے ہیں کہ میکرون کی ذہنی جانچ پڑتال کروائی جائے اور ترک عوام پر زور دیا کہ وہ فرانسیسی لیبل کی حامل مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔
آذربایجان کا ایک علاقہ نسلی آرمینیائی آبادی والے ناگورنو-کاراباخ کے حوالے سے ترکی اور فرانس کے درمیان بھی اختلافات ہیں جو 1990 کی دہائی میں سوویت جنگ کے بعد باکو کے کنٹرول سے الگ ہوگئے تھے۔
ستمبر میں اس سلسلے میں تازہ لڑائی شروع ہوگئی تھی جس میں کئی ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد روس ے مداخلت کرتے ہوئے جنگ بندی کرائی تھی۔
ترکی آذربائیجان کا مضبوط اتحادی ہے۔
روس اور امریکا کے ہمراہ فرانس ایک منسک گروپ کا مشترکہ صدر ہے جس کی وجہ سے کئی دہائیوں سے تنازع کے حل کے لیے بات چیت کی جا رہی ہے لیکن وہ دیرپا معاہدے کی تکمیل میں ناکام رہے ہیں۔
پچھلے مہینے فرانسیسی سینیٹ نے ایک غیر پابند قرارداد منظور کی تھی جس میں فرانس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ نگورنو-کاراباخ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرے۔
اردوان نے اس قرارداد پر الزام عائد کیا کہ کیوں؟ آپ ثالث ہیں لیکن دوسری طرف آپ نے یک ایسے خطے کے بارے میں اپنی پارلیمنٹ میں ایک قرار داد منظور کر لی ہے جس پر آپ کو ثالث سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے آذربائیجان کے صدر الہام علیف کے تبصرے بھی دہرائے کہ اگر فرانس کاراباخ کے آرمینیوں کے لیے ریاست قائم کرنا چاہتا ہے تو وہ بحیرہ روم کے بندرگاہ کے شہر مارسیلی کو آرمینیا کو دے دے۔
اردگان نے کہا کہ میں بھی یہی مشورہ دے رہا ہوں کہ اگر انہیں اتنا ہی شوق ہے تو انہیں مارسیلی آرمینیوں کو دینا چاہیے۔
ستمبر میں بحیرہ روم کے وسطی تناؤ کے بارے میں میکرون کے تبصرے پر ترکی نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔
میکرون نے اس بحران کے حوالے سے اردوان کی سوچ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کے عوام عظیم لوگ ہیں، وہ کسی اور چیز کے مستحق ہیں۔
فرانس نے توانائی سے مالا مال پانیوں کے سلسلے میں یونانی دعوؤں کی حمایت کی تھی جہاں یونان نے ترکی کو سزا دینے کے لیے یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ انقرہ پر پابندیاں عائد کرے۔
یورپی یونین کے اراکین دس دسمبر کو ہونے والے ایک سربراہی اجلاس میں فیصلہ کریں گے کہ آیا ترکی کے خلاف پابندیوں کا اطلاق کا عمل شروع کرنا ہے یا نہیں، اگرچہ بہت سی ریاستیں اس بات پر قائل نہیں ہیں۔
میکرون نے اکتوبر میں الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے شام، لیبیا اور بحیرہ روم میں ترکی کے طرز عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے نیٹو کے اتحادیوں کے ساتھ ترکی کا سلوک انتہائی جنگجو نوعیت کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد افغانستان میں امن عمل کے حوالے سے کئی سوالات

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد افغانستان میں امن عمل کے حوالے سے کئی سوالات

افغانستان : بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ صدر ٹرمپ جنوری میں وائٹ ہاؤس سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے