کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئندہ کئی روز کا راشن ساتھ لائے ہیں

کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئندہ کئی روز کا راشن ساتھ لائے ہیں

نئی دہلی: ستمبر میں مرکزی حکومت کے ذریعے متعارف کروائے جانے والے زرعی قانون کی مخالفت میں ’دہلی چلو‘ نعرے کے ساتھ دارالحکومت کا رُخ کیا

کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئندہ کئی روز کا راشن ساتھ لائے ہیں اور اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک مطالبات پورے نہیں ہو جاتے
حکومت کی جانب سے انھیں دلی میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ زراعت کا نیا قانون ان کی بھلائی کے لیے بنایا گیا ہے۔
سرحد پر روکے جانے کی وجہ سے کسانوں اور پولیس میں مختلف جگہ تصادم بھی ہوئے ہیں۔ کسانوں کے خلاف ہریانہ دہلی سرحد پر واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے استعمال کیے گئے۔
اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے متعدد ٹویٹس کے ذریعے یہ قرار دیا ہے کہ احتجاج کرنا کسانوں کا حق ہے اور کانگریس بھی اس قانون کی پارلیمان سے لے کر سڑکوں تک مخالفت کر رہی ہے۔
انڈین پارلیمان نے ستمبر کے تیسرے ہفتے میں زراعت کے متعلق یکے بعد ديگرے تین بل متعارف کرائے جنھیں فوراً قانونی حیثیت دے دی گئی۔
ان میں ایک ’زرعی پیداوار تجارت اور کامرس قانون 2020‘ ہے جکہ دوسرا ’کسان (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) زرعی سروس قانون 2020‘ ہے جس میں قیمت کی یقین دہانی اور معاہدے شامل ہیں۔ تیسرا قانون ’ضروری اشیا (ترمیمی) قانون‘ ہے۔
پہلے قانون میں ایک ماحولیاتی نظام بنانے کے لیے ایک دفعہ موجود ہے جہاں کسانوں اور تاجروں کو مارکیٹ کے باہر فصلیں فروخت کرنے کی آزادی ہو گی۔
ان کی دفعات میں ریاست کے اندر اور دو ریاستوں کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹنگ اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
کسان (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) زرعی قانون 2020 میں زرعی معاہدوں پر قومی فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔
اس بل سے کاشتکاروں کو زرعی مصنوعات، فارم خدمات، زرعی کاروباری کمپنیوں، پروسیسرز، تھوک فروشوں، بڑے خوردہ فروشوں اور برآمد کنندگان کی فروخت میں شامل ہونے کا اختیار دیا گیا ہے۔
معیاری بیج کی فراہمی کو یقینی بنانا، تکنیکی مدد اور فصلوں کی صحت کی نگرانی کے ساتھ معاہدہ کرنے والے کسانوں کو قرض کی سہولیات اور فصلوں کی انشورنس فراہم کی جائے گی۔
ضروری اشیا (ترمیمی) قانون 2020 کے تحت اناج، دالیں، خوردنی تیل، پیاز آلو کو اشیائے ضروریہ کی فہرست سے نکالنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
ان قوانین پر ملک میں منقسم رائے پائی جاتی ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا دعویٰ ہے کہ ان قوانین سے جو اصلاحات کی جا رہی ہے وہ زراعت کے شعبے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گی۔ دوسری طرف ملک کی حزب اختلاف نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسانوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوں گے۔
ملک میں کسانوں کی تنظیمیں بھی ان پر احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ’غیر منصفانہ‘ ہیں اور ان سے کسانوں کا استحصال ہو گا۔
قانونی اصلاحات کے حامی معاشی ماہرین نے جزوی طور پر ان کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا یہ طریقہ کار درست نہیں ہے اور اس سے متوقع نتائج حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔
کسانوں کا مطالبہ ہے کہ وہ دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں یکجا ہو کر اپنا پرامن مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ دہلی کے مضافاتی علاقے براری جائیں پھر ان سے بات چیت ہو سکتی ہے۔
نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی ہریانہ کی سنگھو بارڈر پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ اسی کے ساتھ سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان کسان دہلی، یوپی کی غازی پور، غازی آباد سرحد پر اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دراصل وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے لیکن پہلے انھیں سنگھو اور ٹیکڑی سرحدوں سے دہلی کے براری میدان میں آنا ہو گا۔
پی ٹی آئی کے مطابق کسانوں کے معاملے پر بی جے پی پارٹی رہنماؤں کا ایک اجلاس اتوار کی شام پارٹی صدر جے پی نڈا کے گھر پر ہوا جس میں وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر زراعت ریندر سنگھ تومر نے شرکت کی۔
اس سے قبل امت شاہ نے کسانوں کے مظاہرے کو غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قانون کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے۔
اتوار کے روز انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پروگرام ’من کی بات‘ میں زراعت کے قانون کو ایک بار پھر کسانوں کے حق میں بتایا ہے جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ حکومت ان سے اس شرط پر تین دسمبر سے پہلے بات کرنے کے لیے تیار ہے کہ پہلے وہ براری میں یکجا ہوں۔
حکومت نے کسانوں کے ایک وفد سے تین دسمبر کو ملاقات کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔
ہریانہ حکومت نے کسانوں کو دہلی آنے سے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی اور اب وہاں کی کھاپ برادری نے بھی کسانوں کی تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کھاپ برادری دہلی کے نواح میں جاٹوں پر مشتمل بہت بااثر برادری ہے۔
ریاست اترپردیش کے کسان رہنما نے بھی پنجاب کے کسانوں کا ساتھ دینے کی بات کہی ہے۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ حکومت کو کسانوں سے بغیر شرط فوری طور پر بات کرنی چاہیے۔ انھوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنی بات کہی۔
عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی بھگونت مان نے کہا: ’ہم اس جدوجہد کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں ہم مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔‘
انھوں نے کہا کہ کسان جہاں مجتمع ہیں انھیں وہیں رہنا دینا چاہیے۔ حکومت کو انھیں وہیں سہولیات فراہم کرنی چاہییں۔ انھوں نے کہا ’فرض تو یہ ہے کہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر زراعت ان کے پاس جاتے اور ان سے ملتے۔ ان کے پاس میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے لیے وقت ہے ان کے لیے نہیں۔ اس سے ان کی نیت کا پتا چلتا ہے۔‘
ان دنوں بی جے پی کے بہت سے رہنما حیدرآباد میں ہونے والے میونسپل انتخابات کے لیے جلسے کر رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما کا اسی جانب اشارہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے