وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

اسلام آباد: دوران سماعت کراچی سرکلر ریلوے کا معاملہ زیر غور آیا تو چیف جسٹس نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ڈی جی سے سوال کیا کس نے ڈیزائن کی منظوری دینی تھی جو تاحال نہیں ہوئی

اس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے منظوری دینی تھی جو تاحال نہیں دی گئی، ساتھ ہی چیف جسٹس نے یہ پوچھا کہ ایف ڈبلیو او نے تاحال کام کیوں نہیں شروع کیا۔
عدالتی استفسار پر ڈی جی نے جواب دیا کہ ہم نے ڈیزائن بنا کر دیا تھا لیکن سندھ حکومت نے تاحال منظور نہیں کیا۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سرکولر ریلوے کا کام 2 ماہ میں مکمل ہو جانا چاہئے تھا، صرف اوو ہیڈ برج (بالائی گزرگاہ) اور تھوڑا سا دیگر کام ہے لیکن ایف ڈبلیو او نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ہماری آنکھوں میں دھول نہ جھونکی جائے، 10 ارب روپے کا کام نہیں ہے، زیر زمین پل بنانا ہے۔
چیف جسٹس نے سیکریٹری ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا جو بھی کیا ہے عوام کےلیے کیا ہے، آپ نے کسی پر احسان نہیں کیا، 2 نوٹس آپ کو پہلے ہوچکے ہیں، کیا تیسرا بھی کردیں؟
اسی دوران بینچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے سیکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ نے اپنی رپورٹ میں سب کچھ لکھ کر دینا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جبکہ سیکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ 2 ہفتوں میں توہین عدالت نوٹس کا جواب جمع کرائیں۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے یہ نوٹس سرکلر ریلوے کے لیے تعمیراتی کام کے ڈیزائن پر سندھ حکومت کی منظوری نہ دینے پرجاری کیا گیا۔
جس کے بعد کیس کی سماعت کو 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر سیکریٹری ریلوے حبیب الرحمٰن گیلانی اور چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔
ساتھ ہی چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے خبردار کیا تھا کہ معاملات یہاں نہیں رکیں گے بلکہ اگر ضرورت پڑی تو عدالت سب کو حتیٰ کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بھی بلا لے گی۔
عدالت نے سیکریٹری ریلوے اور سندھ کے چیف سیکریٹری کو شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے انہیں دو ہفتوں کے بعد کیس کی اگلی سماعت پر عدالت میں پیشی کی ہدایت کی تھی اور کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی تکمیل میں مطلوبہ تاخیر کی وجوہات کی وضاحت طلب کی تھی۔
ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی عدالت کے روبرو پیش ہونے کو کہا گیا تھا۔
یہاں یہ واضح رہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں کافی تاخیر کے بعد پاکستان ریلوے نے 19 نومبر سے کراچی سرکلر ریلوے کو جزوی طور پر بحال کردیا تھا اور 14 کلو میٹر کے صاف ٹریک پر کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے مارشلنگ یارڈ پپری ریلوے اسٹیشن تک ٹرین چلائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

صدر مملکت نے چاروں گورنر اورعلماء کی ویڈیو کانفر نس آج

اسلام آباد: حکومت نے مساجد کیلئے ایس اوپیز کا از سرنو جائزہ لینے کا فیصلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے