جی 20 ممالک سے اپیل کی کہ وہ اب سعودی عرب کو اسلحہ فروخت نہ کریں

جی 20 ممالک سے اپیل کی کہ وہ اب سعودی عرب کو اسلحہ فروخت نہ کریں

سعودی عرب: بائیکاٹ کی کالوں کے بعد اب جی 20 کے رہنماؤں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اس موقعے کا استعمال سعودی عرب کے حکام پر دباؤ ڈالنے کے لیے کریں

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو متعدد قسم کے خدشات لاحق ہیں۔ یہاں تین اہم خدشات کو پیش کیا جا رہا ہے۔
خواتین کارکنوں کے لیے قیدو بند
لجين الهذلول خواتین کے لیے آواز بلند کرنے والے گروپ کی نمایاں شخصیت رہی ہیں جنھیں سنہ 2018 میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق انھیں گرفتار کرنے کے بعد مارا پیٹا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور ریپ کی دھمکی دی گئی۔
31 سالہ لجین سعودی عرب میں رائج مردانہ سرپرستی کے نظام کی سرگرم مخالفت کرنے والوں میں شامل رہی ہیں اور انھوں نے خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کے حق کے لیے مہم چلائی جس کے نتیجے میں ان کی گرفتاری کے بعد سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دیا گیا۔
سعودی عرب نے ان پر تشدد کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا جی 20 کی صدارت کرنا پوری دنیا میں خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے حق میں ہے اور وہ ‘اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔’
ٹائم میگزن نے لجین الھذول کو عرب کی طاقتور ترین خواتین میں شمار کیا ہے لیکن وہ بھوک ہڑتال کی وجہ سے کمزور ہوچکی ہیں۔
گذشتہ ماہ سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے تاکہ باقاعدگی کے ساتھ ان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے دیا جائے۔
کہا جاتا ہے کہ اقوام متحدہ میں ان کی جانب سے ملازمت کے لیے دی جانے والی درخواست کو ان کی گرفتاری کے لیے شواہد کے طور پر استعمال کیا گيا ہے۔
انسانی حقوق کی برطانوی وکیل بیرونیس ہیلینا کینیڈی نے حال ہی میں خواتین کارکنوں کی نظربندی کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں لجین الھذول بھی شامل ہیں۔
قیدیوں کو ‘خراب حالات میں قید رکھا جاتا ہے جہاں وہ تناؤ کا شکار رہتی ہیں اور انھیں ناروا جنسی سلوک اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔’
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کو رواں ہفتے خط لکھا کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکنوں کی رہائی کے مطالبے کے لیے جی 20 کے پلیٹ فارم کا استعمال کریں۔
برطانیہ کی ڈائریکٹر کیٹ ایلن کا کہنا ہے کہ ‘وزیر اعظم کو سعودیوں کے جھوٹ کو پکڑنا چاہیے کہ آپ تو کہتے ہیں کہ آپ خواتین کے حقوق کی پاسداری کے پابند ہیں تو پھر اس کا مظاہرہ کریں اور ان خواتین کو رہا کریں۔’
برطانوی حکومت کے ترجمان نے جواب دیا کہ ‘ہم سعودی حکام کے ساتھ انسانی حقوق کے کارکنانکی نظربندی پر مسلسل اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں اور جی 20 میں یہ معاملات بھی شامل ہیں۔
اپنے شراکت داروں کے ساتھ ملک کر ہم نے حال ہی میں اقوام متحدہ میں سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی طور پر نظربند تمام قیدیوں کو رہا کرے۔‘
لیکن سعودیوں کا کہنا ہے کہ وہ بیرونی دنیا کو اپنی عدالتوں کے متعلق فیصلے صادر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے بتایا: ’ہماری عدلیہ آزاد ہے۔‘
’ہم نہیں چاہتے کہ لوگ ہمیں لیکچر دیں یا ہمیں حکم دیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ہم برطانیہ یا امریکہ میں یا کسی دوسری جگہ کے لوگوں کو یہ نہیں کہتے کہ انھیں کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔‘
استنبول میں سنہ 2018 میں سعودی قونصل خانے میں ایک صحافی کے قتل نے پوری دنیا میں صدمے کی لہر پیدا کر دی تھی۔ وہ ایک مختصر دورانیہ کا سفارتی بحران تھا۔
صحافی جمال خاشقجی کو سعودی سکواڈ نے گلا دبا کر مار ڈالا پھر ان کے جسم کے ٹکڑے کر ڈالے۔ اس قتل پر چلنے والے مقدمے کے بعد آٹھ افراد کو سزا سنائی گئی لیکن اس کے ماسٹر مائنڈ کو ذمہ دار نہ ٹھہرائے جانے پر دنیا بھر میں سعودی عرب کی مذمت ہوئی۔
بہرحال سعودی عرب کے حقیقی رہنما محمد بن سلمان کے قریبی مشیر سعود القحطانی کو چھوڑ دیا گیا۔
لجین الھذول کو ٹارچر کیے جانے کے وقت وہی مشیر وہاں موجود تھا۔ لحین الھذول نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ مسٹر القحطانی نے انھیں ریپ اور جان سے مار کر ان کی لاش کو نالے میں بہا دینے کی دھمکی دی تھی۔
ہیومن رائٹس واچ نے سعودی حکام پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس کی زیادتیوں پر ‘پردے’ ڈال رہی ہے۔
اس گروپ کا کہنا ہے کہ ‘اکتوبر سنہ 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے سعودی ایجنٹوں کے ہاتھوں وحشیانہ قتل کے دو سال بعد، اس قتل میں ملوث اعلی سطحی عہدیداروں پر کوئی جوابدہی عائد نہیں کی گئی۔
سعودی عرب نے تفریحی، ثقافتی اور کھیلوں کے بڑے پروگراموں کی میزبانی میں اربوں ڈالر خرچ کر کے اپنی انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے ملک کی شبیہہ سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی دانستہ حکمت عملی کو اپنایا ہوا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ اور خاشقجی قتل کی تحقیقات کرنے والے ایگنس کالامارڈ نے جی 20 ممالک سے اخلاقی موقف اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کسی بھی ملک کو احتساب سے بچنے کا راستہ خریدنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
مسٹر خاشقجی کی منگیتر خدیجے چنگیز نےبتایا کہ جی 20 ممالک جس طرح سعودی عرب کے ساتھ معمول کے مطابق کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں وہ ان کے لیے ناقابل قبول ہے۔
انھوں نے کہا: ‘انھیں کچھ کرنا چاہیے۔ مجھے انصاف چاہیے۔ اور صرف میرے لیے نہیں۔ میں ان خواتین کے لیے بھی انصاف چاہتی ہوں جو جیل میں ہیں، اور میں چاہتی ہوں کہ انھیں رہا کیا جائے۔’
برطانیہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے ‘سنگین جرائم’ کے متعلق انصاف کا بار بار مطالبہ کیا ہے۔ اور سعود القحطانی ان 20 سعودیوں میں سے ایک ہیں جنھیں برطانیہ کی جانب سے پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
سعود القحطانی پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک سینیئر عہدیدار کی حیثیت سے 15 رکنی ٹیم کے ذریعے قتل کی منصوبہ بندی کی اور اس حوالے سے ہدایات دیں، لہذا اس الزام میں حکومتِ برطانیہ نے ان پر سفری پابندی کے علاوہ ان کے اثاثے بھی منجمد کر رکھے ہیں۔
ستمبر میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے بازاروں اور کھیتوں پر فضائی حملوں کے نتیجے میں ‘مستقل طور پر شہری ہلاکتوں میں اضافے’ کی اطلاع دی۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔
یمن میں ‘سیو دی چلڈرن’ تنظیم کے ڈائریکٹر زیویر جوربرٹ نے کہا: ‘جس وقت سعودی عرب کی سربراہی میں جی 20 سربراہی اجلاس میں عالمی رہنما مل رہے ہیں، اس وقت یمنی بچے گھروں میں خوف کی زندگی بسر کر رہے ہیں کیونکہ یمن میں جاری جنگ ان کے شہروں میں ہلاکتوں کا سبب ہے۔۔ ان کے بھائی بہن اور پیارے مسلسل مر رہے ہیں۔’
جی 20 ممالک سے اپیل کی کہ وہ اب سعودی عرب کو اسلحہ فروخت نہ کریں اور معاہدوں کو منسوخ کر دیں۔
اسلحے کی فروخت اس تباہ کن جنگ کو بڑھا رہی ہے جو یمن میں بچوں کو مارنے اور معذور کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ گذشتہ سہ ماہی کے مقابلہ میں جون کے بعد سے ہوائی حملوں کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکتوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔’

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی کابینہ کے ابتدائی ارکان کا اعلان کر دیا

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی کابینہ کے ابتدائی ارکان کا اعلان کر دیا

واشنگٹن: ایلی یاندرو کو سیکریٹری ہوم لینڈ نامزد کیا گیا ہے جو ہوم لینڈ سیکورٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے