خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کا نام ای سی ایل میں رکھنے کے لیے وجہ بیان کریں

خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کا نام ای سی ایل میں رکھنے کے لیے وجہ بیان کریں

اسلام آباد: تاہم اکتوبر میں وزارت داخلہ نے نمائندگی کو مسترد کردیا تھا، مزید یہ کہ اسد درانی نے ای سی ایل پر اپنے نام کے خلاف ایک اور درخواست دائر کی تھی

اس سلسلے میں ہونے والی حالیہ سماعت میں اسد درانی کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ حکومت نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا نام بھارتی خفیہ ایجنسی را (ریسرچ اینڈ انالائسز ونگ) کے سابق سربراہ کے ساتھ ایک کتاب لکھنے سے متعلق ہونے والی انکوائری کے تناظر میں ای سی ایل میں ڈال دیا تھا۔
انہوں نے نکتہ اٹھایا کہ اگرچہ انکوائری مکمل ہوچکی ہے اور اسد درانی کو اس کے مطابق سزا بھی دی جاچکی ہے تاہم ان کا نام ابھی تک ای سی ایل پر برقرار ہے۔
اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ حکومت پہلے ہی اسد درانی کی پینشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات کو روک چکی ہے، ساتھ ہی انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ (حکومت) ان کا نام پرواز نہ کرنے والوں کی فہرست میں رکھ کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔
جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیے کہ ’اگر آپ نے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ ایک مختلف کیس ہوگا’۔
اس موقع پر انہوں نے وزارت داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کا نام ای سی ایل میں رکھنے کے لیے وجہ بیان کریں۔
دوران سماعت ایڈیشل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ وہ وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کریں گے۔

عدالت نے مذکورہ معاملے کو 4 دسمبر تک ملتوی کردیا۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ سال 2018 میں ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) نے وزارت داخلہ کو لکھا تھا کہ وہ را کے سابق سربراہ ارم جیت سنگھ دولت کے ساتھ جاسوسی سے متعلق ایک کتاب لکھنے پر اسد درانی کا نام ای سی ایل میں شامل کرے۔

یہ بھی پڑھیں

سی ڈی اے کوتعمیرات کی ریگولرائز یشن کاعمل شفاف بنانے کاحکم دے دیا

سی ڈی اے کوتعمیرات کی ریگولرائز یشن کاعمل شفاف بنانے کاحکم دے دیا

اسلام آباد: جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیزکیلئےاپنا سیورج پلانٹ لگانے کی شرط …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے