وزیراعظم عمران خان افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر افغانستان کا دورہ کر رہے ہیں

وزیراعظم عمران خان افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر افغانستان کا دورہ کر رہے ہیں

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان افغانستان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب ایک جانب افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے ہونے کے باوجود ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے

دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بین الافغان مذاکرات دو ماہ گزرنے کے باوجود باقاعدہ طور پر شروع نہیں ہوئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی سنیچر کو پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں افغانستان پر ایک بار پھر الزام لگایا تھا کہ انڈیا افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
وزیراعظم کے اس دورے سے تین دن قبل ہی مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد افغانستان کے دورے پر روانہ ہوئے ہیں اور انھوں نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور دیگر حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے پر بات چیت کی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا اگرچہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ افغانستان کا پہلا دورہ ہے لیکن گزشتہ دو برسوں میں اُن کی افغان صدر کے ساتھ یہ تیسری ملاقات ہو گی۔
ان کی پہلی ملاقات گذشتہ برس مئی میں سعودی عرب میں ہونے والے او آئی سی اجلاس کے سائیڈ لائن پر ہوئی تھی، جس کے ایک ماہ بعد ہی افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
کابل میں افغان صدارتی محل کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو وزیراعظم عمران خان اور صدر غنی کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں رہنما صدارتی محل میں ہی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے، تاہم اس بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا جائے گا۔
دوحہ میں رواں برس فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد اگرچہ جلد ہی بین الافغان مذاکرات شروع ہونے تھے لیکن کئی ماہ کی تاخیر کے بعد افغان حکومت اور طالبان مذاکراتی ٹیموں کے درمیان بین الافغان مذاکرات کے لیے دوحہ میں ملاقاتیں تو ہوئیں لیکن تاحال یہ مذاکرات باقاعدہ طور پر شروع نہیں ہوئے ہیں۔
افغان حکومت اور عوام چاہتے ہیں کہ جنگ بندی ہو تاہم طالبان بضد ہیں کہ جنگ بندی پر بین الافغان مذاکرات میں ہی بحث ہو گی۔ دوحہ میں اگرچہ دونوں مذاکراتی ٹیموں کے درمیان دو ماہ سے ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن ادھر کابل اور دیگر شہروں میں افغان حکومت اور فوج کے خلاف طالبان کے حملوں میں شدید تیزی دیکھنے میں آئی ہیں۔
امریکہ، افغان حکومت اور پوری دنیا پاکستان پر طالبان پر اثر و رسوخ کا الزام لگاتی ہیں اور دوحہ مذاکرات میں تو پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی یہ کہا تھا کہ اگر پاکستان کی کوششیں نہ ہوتی تو یہ معاہدہ نہ ہوتا۔ پاکستان کے اسی اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے افغان حکام چاہتے ہیں کہ پاکستان بین الافغانی مذکرات میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کریں اور طالبان ان مذاکرات کے آغاز سے ہی جنگ بندی کا اعلان کر لیں۔
پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر اور افغان صدر کے پاکستان کے لیے خصوصی نمائندے عمر داؤد زئی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں کہا تھا کہ پاکستانی حکام نے غیر رسمی ملاقاتوں میں اُنھیں یہ باور کرایا ہے کہ رواں سال کے آخر تک طالبان جنگ بندی پر راضی ہو جائیں گے۔
پاکستان کے طالبان پر اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے ہم پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بین الافغان مذاکرات میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کریں جیسا کہ انھوں نے امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں ادا کیا تھا۔‘
وزیراعظم عمران خان کا پہلے ہی دن سے یہ موقف ہے کہ افغانستان کا مسئلہ جنگ سے نہیں بات چیت سے حل ہو گا۔ افغانستان میں پاکستان کے سابق سفارتکار ایاز وزیر سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ افغانستان نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے بلکہ دوحہ میں جاری افغان حکومت اور طالبان کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے لیے بھی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
مثبت نتیجہ نکل آئے گا کیونکہ وہ ایک عرصے سے یہ کہتے تھے کہ یہ سب بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو گا۔ اب جب امریکی افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں اور نئی امریکی قیادت کے بعد خطے میں اگر کوئی تبدیلی ہوتی ہیں تو بھی وزیراعظم عمران خان کا دورہ کابل دونوں ملکوں کے درمیان آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔
انڈیا، افغان طالبان، پاکستانی طالبان اور بلوچ عسکریت پسند دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کی اہم وجوہات سمجھے جاتے ہیں۔ افغانستان پاکستان پر افغان طالبان کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں جبکہ پاکستان، تحریک طالبان کے تمام حملوں کی ذمہ داری افغانستان پر ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انڈیا پاکستانی طالبان اور بلوچ عسکریت پسندوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے۔
دونوں ممالک میں دہشت گردی کے لگ بھگ ہر واقعے کے بعد الزام ایک دوسرے پر ان کی سرزمین کے استعمال کا لگایا جاتا ہے۔
پاکستان کا یہ بھی الزام ہے کہ حال ہی میں پاکستان میں بننے والی سیاسی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے پیچھے بھی افغان حکومت اور انڈیا کا ہاتھ ہے اور جب افغان صدر اشرف غنی نے پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس تحریک کے حق میں ٹویٹس کیں تو پاکستان نے اس پر بھی شدید احتجاج کیا تھا اور اس کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

مچھلی ریفر کنٹینرز میں چین بھجوائی جائے گی

مچھلی ریفر کنٹینرز میں چین بھجوائی جائے گی

اسلام آباد: وزیراعظم کی ہدایت کے تحت گوادر بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے