پورے کراچی میں ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس(ای ڈی یوز) کو بحال کرنے کا فیصلہ

پورے کراچی میں ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس(ای ڈی یوز) کو بحال کرنے کا فیصلہ

کراچی: سرکاری ہسپتالوں میں ایچ ڈی یو کی سہولیات کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا جس میں ایک ایکسپو سینٹر اور کم سے کم تین سرکاری شعبے کے ہسپتال شامل ہیں جن کو وبائی بیماری کی پہلی لہر کے دوران کووڈ-19 کے مریضوں میں اضافے کے بعد اپ گریڈ کیا گیا تھا

تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 240 بستروں پر مشتمل ایچ ڈی یو کو کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ایکسپو سینٹر کی آئسولیشن سہولت میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا افتتاح وزیر اعلیٰ سندھ نے جون 2020 میں کیا تھا، مرکز کی ایچ ڈی یو سہولت میں بستروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا گیا، 1،200 بستروں پر مشتمل ایکسپو سینٹر فیلڈ آئسولیشن سہولت کا افتتاح 2 اپریل میں ہوا تھا لیکن شہر میں کووڈ-19 کے مریضوں کی کم تعداد کی وجہ سے مرکز کے کچھ حصے کو ہی استعمال کیا جاسکا تھا، یہی وجہ ہے کہ اس بار حکومت نے ابتدائی طور پر صرف اپنے ایچ ڈی یو حصے کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایکسپو سینٹر میں نئے ایچ ڈی یو کی بحالی سے شہر کے دیگر اسپتالوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی، انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز وہاں موجود ہوں گے جبکہ انڈس اسپتال بھی اس یونٹ کو چلانے میں معاون ثابت ہو گا۔
وبائی مرض کی پہلی لہر کے دوران حکومت سندھ نے صوبہ بھر میں کووڈ-19 کے مرض کی شدت کا شکار مریضوں کے لیے صوبے بھر میں 453 بستروں کے آئی سی یو اور 1553 بستروں کے ایچ ڈی یوز قائم کیے تھے جن میں سے اکثر کراچی میں قائم کیے گئے تھے۔
صوبہ بھر میں کووڈ۔19 کی وجہ سے تقریباً 11ہزار فعال کیسز اور تقریباً 3،000 اموات کے ساتھ حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے کا دعوی کیا ہے۔
یہ ہسپتال کووڈ-19 کے مریضوں کے علاج میں بہت مددگار ثابت ہوں گے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی کو صرف آکسیجن کی مدد یا وینٹیلیٹر کی ضرورت ہو تو بھی یہ مددگار ثابت ہوں گے۔ ایکس رے/ریڈیولوجی ڈپارٹمنٹ کی سہولت سینے میں پیچیدگی کی تشخیص کرکے شدید بیمار مریضوں کی زندگیاں بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
حکومت سندھ پہلے ہی کراچی میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے الگ الگ صحت کی سہولیات قائم کرنے کا انتظام کر چکی ہے اور جلد ہی اسے ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں وسعت دے گی۔
ایکسپور سینٹر نے مریضوں کی تین اقسام کے لیے اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا، سب سے پہلے وہ مریض ہیں جن کے کووڈ۔19 کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد علامات کی وجہ سے گھر سے منتقل کیا گیا، دوسرا ،وہ جن کو الگ تھلگ رہنے کی ضرورت تھی اور تیسرا وہ مریض تھے جن کو پیچیدگیوں کی وجہ سے ایچ ڈی یو کی ضرورت تھی۔

یہ بھی پڑھیں

ماہی گیروں کے جال میں مشہور اور نہایت اعلیٰ ذائقے والی کھگا مچھلیاں پکڑی گئیں

ماہی گیروں کے جال میں مشہور اور نہایت اعلیٰ ذائقے والی کھگا مچھلیاں پکڑی گئیں

کراچی: مچھلیوں کا ڈھیر اکٹھا کرتے ماہی گیروں کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے