امریکہ کے خفیہ اداروں اور سکیورٹی کمیونٹی میں اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے

امریکہ کے خفیہ اداروں اور سکیورٹی کمیونٹی میں اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے

امریکہ: جو لوگ اس ’جاسوسی کی دنیا‘ سے منسلک نہیں ہیں انھوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ شاید موجودہ صدر کی جانب سے اپنی طاقت کو نہ چھوڑنے کی ایک کوشش ہے،

وہ جو اُس دنیا میں ہی رہتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ شاید یہ ایک ذاتی انتقام پر مبنی اقدام ہے جو کہ صدر ٹرمپ کے دور صدارت کا خاصہ رہا ہے
لیکن یہ حقیقت ہے کہ صدارت کی منتقلی کے دوران ایسے اقدام بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پینٹاگون کی قیادت میں سے متعدد سویلین افراد کو نوکری سے نکال دینا شاید ایک شروعات ہے۔
کچھ معاملات میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسے صدر کے فیصلے ہیں جو اپنی صدارت کے آخری دنوں میں اپنے پالیسی اہداف کو پورا کرنے کے خواہشمند ہیں اور ان لوگوں کو ہٹانا چاہتے ہیں جو ان کے راستے میں رکاوٹ تھے، جیسے وہ لوگ جو افغانستان سے فوج نکالنے کے خلاف ہیں۔
لیکن ساتھ ساتھ کئی مبصرین کو ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدامات ایک چھپے ہوئے غیض و غضب کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ ایک طویل جنگ کا آخری مرحلہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں امریکہ کے قومی سلامتی کے اداروں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’ڈیپ سٹیٹ‘ ہیں اور انھیں صدارت سے ہٹانے کی سازش میں مصروف ہیں۔
امریکی خفیہ اداروں نے اپنی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ روس نے سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کی تھی۔ البتہ صدر ٹرمپ اس پر خفا تھے کیونکہ یہ انھیں ان کی اپنی صدارت کے لیے خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ شاید اس سے ان کی جیت پر سوالیہ نشان اٹھائے جائیں۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انھوں نے اپنی صدارت کے آغاز سے ہی ان اداروں کے خلاف جارحانہ مزاج اپنائے رکھا اور پھر کبھی اسے تبدیل نہیں کیا۔
گذشتہ چند ماہ میں انھوں نے ان معلومات کو عوام کے سامنے ظاہر کرنے پر زور دیا جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس سے خفیہ اداروں کی روس کے بارے میں تجزیہ غلط ثابت ہو سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں اپنے ایک سیاسی حلیف رچرڈ گرینل کو ڈائریکٹر قومی انٹیلیجنس کا عہدہ سونپا ہے جنھوں نے صدر ٹرمپ کے بیانیے کو مزید تقویت دی ہے لیکن انھیں مزاحمت کا سامنا ہے۔
سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہاسپیل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی نوکری بھی خطرے میں ہے، اور ان کے سر پر یہ تلوار اس وقت سے لٹک رہی ہے جب سے وہ اس عہدے پر ہیں۔
جینا کے ناقد کہتے ہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس کے بہت قریب ہیں اور اس کے بارے وہ مثال دیتے ہیں کہ جینا نے سٹیٹ آف یونین کی تقریب میں شرکت کی تھی اور صدر ٹرمپ کی تقریر پر تالیاں بھی بجائیں تھیں۔
لیکن جینا کے حامی کہتے ہیں کہ انھوں نے بہت احتیاط سے اپنے فرائض انجام دیے ہیں تاکہ وہ صدر ٹرمپ سے دشمنی بھی مول نہ لیں اور سی آئی اے کو سیاسی فریق بننے سے بچائیں، کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ اگر انھیں ہٹا دیا گیا تو ان کی جگہ کسی ایسے فرد کو لایا جائے گا جو صدر ٹرمپ کی طرفداری کرے۔
جینا ہاسپیل کی جانب سے روسی مداخلت کے بارے میں خفیہ مواد سامنے نہ لانے سے صدر ٹرمپ کے حامیوں نے ان پر تنقید کی ہے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ متنازع فیصلہ ہو گا اگر ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرس رے کو ان کی نوکری سے نکال دیا جائے۔
کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایف بی آئی سے صدارتی انتخاب میں حریف جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے بیرون ملک کاروباری تعلقات کے بارے میں تفتیش نہ کرنے کی وجہ سے سخت ناراض ہیں۔
صدر ٹرمپ کی خواہش تھی کہ ایف بی آئی ان انتخاب میں ویسا کردار ادا کرے جب سنہ 2016 کے انتخاب میں اس وقت کے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کی ای میلز کے بارے میں تفتیش کی تھی اور اس کی وجہ سے انھیں اپنی صدارتی مہم کے آخر میں نقصان ہوا تھا اور وہ انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ سے شکست کھا گئی تھیں۔
عمومی طور پر سی آئی اے کے سربراہ کو نئے آنے والے صدر تبدیل کر دیتے ہیں، ایف بی آئی کے سربراہ کو عام طور پر دس سال کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔
امریکی ایجنسی سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (سیسا) کے صدر کرس کریبز بہت اچھی ساکھ ہونے کے باوجود خطرے میں ہیں کیونکہ ان کے ادارے کی بنائی ہوئی ایک ویب سائٹ پر یہ کہا گیا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے الیکشن میں فراڈ اور دھاندلی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
پینٹاگون میں اہم عہدوں پر سیاسی نوعیت کی تعیناتی ہوئی جس سے خدشہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم چاہتی ہے کہ ایسے افراد کو قومی سلامتی کے اداروں میں شامل کر دیا جائے جو نئے صدر کے آنے کے باوجود صدر ٹرمپ کے لیے کردار ادا کرتے رہیں۔
اس بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ شاید وفادار کارکنوں کو نوازنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ لوگ دور صدارت کے آخری مراحل میں اہم عہدوں پر کچھ عرصے کام کر لیں اور اس عرصے میں مزید متنازع پالیسیوں کو اختیار کریں۔
یہ بہت ممکن ہے کہ نئے صدر اپنے عہدے پر آنے کے بعد ان کئی افراد کو تبدیل کر دیں لیکن اس کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔
جو بائیڈن کی انتخاب میں جیت کو تسلیم نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ابھی تک روزانہ دی جانے والی خفیہ معلومات کی خبریں نہ دی جائیں جو کہ عمومی طور پر ہوتا ہے۔ اور اگر یہ سلسلے زیادہ دیر چلا تو اس سے بہت نقصان ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اہم معاہدہ طے پایا گیا

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اہم معاہدہ طے پایا گیا

اسرائیل: اسرائیلی حکام کے مطابق موساد کے نام سے مشہور اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے چیف، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے