گلگت بلتستان میں آزاد امیدوار تقریباً ایک تہائی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئے

گلگت بلتستان میں آزاد امیدوار تقریباً ایک تہائی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئے

اسلام آباد: تمام 23 حلقوں کے غیر سرکاری نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جس کے بعد 7 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 3 نشستوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) 2 جبکہ متحدہ وحدت المسلمین جس نے پی ٹی آئی کے ساتھ ایک نشست پر ایڈجسٹمنٹ کی تھی وہ ایک نشست پر کامیاب ہوئی۔
چنانچہ خواتین کے لیے مخصوص 6 نشستوں میں سے پی ٹی آئی کے لیے ممکنہ 4 اور ٹیکنو کریٹس کی 3 میں سے 2 نشستیں ملنے کے بعد پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی33 رکنی گلگت بلتستان اسمبلی میں 16 مجموعی نشستیں ہوجائیں گی جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اسے حکومت بنانے کے لیے ایک اور امیدوار کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔
اس وقت پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کے لیے کسی امیدوار کو نامزد نہیں کیا جبکہ پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے صدر جسٹس (ر) جعفر شاہ انتخابات سے چند ہفتے پہلے ہی کورونا وائرس کے سبب انتقال کر گئے تھے جس کے باعث جی بی ایل اے-3 گلگت-3 کی نشست پر انتخاب بھی ملتوی ہوگیا اور اب اس نشست پر 22 نومبر کو ضمنی انتخاب ہوگا۔
ایک جانب پی ٹی آئی کے کارکنان حامی خطے میں اپنی اولین جیت کا جشن منا رہے ہیں تو دوسری جانب ملک کی 2بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے انتخابات پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔
پی پی پی جو گلگت بلتستان اسمبلی کے گزشتہ انتخابات میں صرف ایک ہی نشست پر کامیابی حاصل کرسکی تھی اب گلگت، نگر اور گھانچے سے ایک ایک کر کے 3 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
تاہم سیکڑوں پی پی پی حامیوں نے گلگت شہر کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا جہاں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے ان سے خطاب بھی کیا۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا بیانہ مسترد کردیا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے میڈیا کو یہ تاثر دینے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام ہمیشہ وفاق میں حکمران کو ووٹ دیتے ہیں، پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے جمہوری سوچ کے ساتھ اپنی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کے لیے ووٹ دیا۔
اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میڈیا نے اپنے کیمروں سے الیکشن مہم کور کی ہیں اور اپوزیشن کی سینئر قیادت سے انتخابی مہم چلائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت شفاف انتخابات تھے، اگر پی ٹی آئی دھاندلی کرنا چاہتی تو وہ 23 میں سے کم از 14سے 15 نشستیں حاصل کرتی۔

یہ بھی پڑھیں

مچھلی ریفر کنٹینرز میں چین بھجوائی جائے گی

مچھلی ریفر کنٹینرز میں چین بھجوائی جائے گی

اسلام آباد: وزیراعظم کی ہدایت کے تحت گوادر بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے