آذربائیجان میں مشترکہ طور پر نگرانی کے لیے ایک سینٹر قائم کیا جائے گا

آذربائیجان میں مشترکہ طور پر نگرانی کے لیے ایک سینٹر قائم کیا جائے گا

ترکی: گزشتہ ہفتے روس کی سربراہی میں آذربائیجان اور آرمینیا کی حکومتوں نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت نیگورنو-کاراباخ میں روس اور ترک افواج نگرانی کریں گی جبکہ آرمینیائی افراد متنازع خطہ چھوڑ دیں گے

روس اور ترک وزرائے دفاع نے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور اس میں طے پایا تھا کہ آذربائیجان میں مشترکہ طور پر نگرانی کے لیے ایک سینٹر قائم کیا جائے گا۔
ترک حکومت نے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا تھا جس میں درخواست کی گئی ہے کہ ترک امن فوج کو ایک سال کے لیے بھیجنے کی منظوری دی جائے اور فوجیوں کی تعداد صدر رجب طیب اردوان طے کریں گے۔
پارلیمنٹ میں اس بل پر آنے والے دنوں میں بحث ہوگی اور کہا جارہا ہے کہ فوج کے ساتھ ساتھ سول انتظامی عہدیدار بھی امن مشن کا حصہ ہوں گے۔
‘ترک مسلح افواج کے اہلکاروں کو روس اور ترکی کے جوائنٹ سینٹر کے قیام میں حصہ لینا ہوگا جو خطے کے عوام کے لیے امن اور فلاح میں معاون ہوگا اور یہ قدم قومی مفاد کے تحت ضروری ہے’۔
عہدیداروں کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کی سرزمین میں نگرانی کے عمل میں ترک اہلکاروں کا اثر و رسوخ بہت محدود ہوگا اور وہ نیگورنو-کاراباخ نہیں جائیں گے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ سینٹر کو ممکنہ خلاف ورزیوں کی نگرانی لیے ڈرون اور دیگر تیکنیکی حوالے سے استعمال کیا جائے گا۔
آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے کا ضامن اس کی نگرانی کی غرض سے 2 ہزار فوجیوں کو 5 برس کے لیے تعینات کرے گا۔
نیگورنو-کاراباخ عالمی سطح پر آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے لیکن 1994 میں جنگ کے بعد آرمینیا نے قبضہ کیا تھا اور حالیہ لڑائی کے دوران بھی ان کے قبضے میں ہے۔
جنگ بندی معاہدے کے بعد آرمینیا میں وزیراعظم نیکول پاشینیان کے خلاف شدید احتجاج ہوا تھا اور مظاہرین ان کو غدار قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
انہوں نے مظاہرین نے مسلح احتجاج سے گریز کرنے پر زور دیا اور توقع ظاہر کی کہ اپوزیشن بھی اس اقدام کی نفی کرے گی۔
آرمینیا اور آذربائیجان نے بدترین لڑائی کے بعد 10 نومبر کو جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا تھا اور آذربائیجان میں اس کو فتح کے طور پر منایا گیا تھا۔
آرمینیا کے وزیراعظم نے اس کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شکست کے آثار کو دیکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔
جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر تسلیم شدہ آذربائیجان کے علاقے نیگورنو-کاراباخ میں لڑائی ختم ہوگئی ہے۔
نیگورنو-کاراباخ میں تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے روز کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فوری طور پر روس اور ترکی کشیدگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

کرونا وائرس ٹیسٹ کے لیے گئے وقت پر دو بار نہ جانے پر تیسری بار بکنگ دو ہفتے تک نہیں ملے گی

ریاض: سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے