چین میں نام کے ساتھ ’محمد‘ لگانے پر پابندی

بیجنگ: چینی حکام نے مسلمان اکثریتی مغربی ریاست سنکیانگ میں انتہا پسندی سے نمٹنے کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے اور ریاست بھر میں نوموجود بچوں کےنام ’محمد‘ اور ’جہاد‘ رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک رپورٹ کے مطابق چین میں مسلمان بچوں کے ناموں کے ساتھ ’محمد‘ یا’جہاد‘ نام شامل کرنے پر پابندی کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کو روکنا ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق سنکیانگ صوبے کی مسلمان آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے مگر دوسرے اعداد وشمار نیویارک ٹائمز کے دعوے کے برعکس ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مشتری ترکستان میں 25 ملین افراد آباد ہیں، یہ سب مسلمان اکثریت ہیں اور ان کے پڑوسی علاقوں میں قزاقستان، کرغیزستان اور ازبکستان ہیں۔ نسلی اعتبار سے یہاں بسنے والے زیادہ تر ازبک قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چینی حکومت کا خیال ہے کہ مشرقی ترکستان میں یغور نسل کے لوگوں کی شناخت مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ طویل عرصے سے یہ صوبہ شورش کا شکار رہا ہے۔ اس کے دو بڑے شہروں کاشغر اور اورمچی میں بڑے بڑے اور پر تشدد مظاہرے ہوچکے ہیں جب کہ چین کا کہنا ہے کہ یہاں بسنے والے مسلمان علحیدگی کے لیے تحریک کی آڑ میں دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

قبل ازیں یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ چینی حکومت نے یغور نسل کے مسلمانوں کے خلاف سخت اقدامات کیے تھے جن میں روزہ رکھنے پر پاپندی اور بسوں میں حجاب اوڑھنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی چوکی پر فائرنگ، فلسطینی خاتون شہید

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی چوکی پر فائرنگ، فلسطینی خاتون شہید

مقبوضہ بیت القدس:  قابض صہیونی فوج نے بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے