سرکاری و نجی اسکولوں اور مدرسوں میں پرائمری کی سطح پر یکساں تعلیمی نظام

سرکاری و نجی اسکولوں اور مدرسوں میں پرائمری کی سطح پر یکساں تعلیمی نظام

اسلام آباد: وفاقی وزارت تعلیم صوبوں کے ساتھ مل کر اگلے سال اپریل میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر سرکاری و نجی اسکولوں اور مدرسوں میں پرائمری کی سطح پر یکساں تعلیمی نظام متعارف کرانے کی کوشش کررہی ہے

منصوبے کے مطابق یکساں تعلیمی نظام کو 2022 میں چھٹی سے آٹھویں جماعت تک جبکہ 2023 میں نویں جماعت سے بارہویں جماعت متعارف کرایا جائے گا۔
اجلاس کے بعد جاری ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نئی نسل کو رسول ﷺ کی زندگی اور ان کی سنت سے مکمل واقفیت ہونی چاہیے، کیونکہ ‘ہمارے پیارے نبی ﷺ ہم سب کے لیے ایک مثالی شخصیت ہیں’۔
نئی پالیسی نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گی بلکہ تمام بچوں کو یکساں مواقع بھی فراہم کرے گی، انہوں نے یکساں تعلیمی نظام کے نفاذ کے لیے اساتذہ کی استعداد کار کو بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ نیا نظام دوسرے ممالک کے لیے بھی مثالی نمونہ ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، پنجاب کے وزیرتعلیم مراد راس اور اعلیٰ تعلیم کے وزیر یاسر ہمایوں، خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم شہرام ترکئی، پارلیمانی سیکریٹری برائے وفاقی تعلیم وجیہہ اکرام اور وزارت کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔
شفقت محمود نے وزیراعظم کو بتایا کہ نیا یکساں تعلیمی نظام طلبہ کی تخلیقی اور تجزیاتی نقطہ نظر کو بڑھائے گا، مزید یہ کہ نیا نظام طلبہ کی کرادار سازی میں مددگار ثابت ہوگا، ساتھ ہی وہ طلبہ کو اپنے دفاع، ماحولیاتی مسائل، سچائی، ایمانداری، برداشت، باہمی ہم آہنگی اور جمہوریت سے بھی واقفیت فراہم کرے گا۔
یکساں تعلیمی نظام کے لیے نئے نصاب کی تیاری کے دوران پائیدار ترقی کے مقاصد کو بھی نظر میں رکھا گیا، مزی یہ کہ مسلمان طلبہ کے لیے اسلامی تعلیم کا فروغ یکساں تعلیمی نظام کا لازمی جزو ہے جبکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ان کے متعلقہ مذاہب کے حوالے سے ہی تعلیمات دی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں

26نومبر سے 24دسمبر تک پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کااعلان

26نومبر سے 24دسمبر تک پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کااعلان

اسلام آباد: بین الصوبائی وزرائےتعلیم کااجلاس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور معاون …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے