عمران خان کے خلاف پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس کا کوئی ثبوت نہیں

عمران خان کے خلاف پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس کا کوئی ثبوت نہیں

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت میں وزیراعظم عمران خان کے وکیل عبداللہ بابر اعوان ایڈوکیٹ نے بریت کی درخواست کے ساتھ تحریری دلائل عدالت میں جمع کرادیئے

تحریری دلائل میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف پی ٹی وی، پارلیمنٹ حملہ کیس کا کوئی ثبوت نہیں،کسی گواہ نے عمران خان کے مقدمے میں ملوث ہونا کا بیان نہیں دیا،استغاثہ بھی عمران خان کے خلاف مزید قانونی چارہ جوئی کرنے کو تیار نہیں، کیس کو مدنظر رکھتے ہوئے عمران خان کو سزا دیئےجانے کا کوئی امکان نہیں، اس لئے مزید قانونی چارہ جوئی کی ضرورت نہیں عمران خان کو بری کیا جائے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔
2014 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے دھرنے کے دوران مشتعل افراد نے پی ٹی وی کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بولا تھا۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سمیت کم و بیش 70 افراد کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ستمبر 2018 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دھرنے کے دوران بننے والے 3 مقدمات میں وزیراعظم عمران خان کی مستقل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

پی ڈی ایم کے جلسوں سے عمران خان کی حکومت نہیں جائے گی

پی ڈی ایم کے جلسوں سے عمران خان کی حکومت نہیں جائے گی

اسلام آباد: وزیرریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے