صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا کہ میکرون کو ’مختلف عقائد کے گروپس کے لاکھوں اراکین‘ کے ساتھ برتاؤ کے لیے انہیں ’دماغی معائنہ‘ کرانا چاہیے

ان کے اس ریمارکس کے بعد پیرس نے انقرہ سے اپنے سفیر کو واپس بھی بلا لیا تھا۔
ترک لیڈر نے اگلے ہی روز ان ریمارکس کو ایک مرتبہ پھر دوہرایا اور الزام لگایا کہ میکرون کو ’دن اور رات اردوان کا وہم ہے‘۔
مشرقی اناطولیہ کے شہر مالاتیا میں ٹیلی ویژن خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ (میکرون) ایک کیس ہے، لہٰذا انہیں اصل میں (ذماغی) معائنے کی ضرورت ہے‘۔
یونان-ترک سمندری تنازع سے لیکر ارمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تناؤ تک کے جیوپولیٹیکل معاملات پر اردوان اور میکرون کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر کے بیان نے کئی مسلمان اکثریتی ممالک میں غصے کی لہر پھیلا دی ہے اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں جبکہ مزید احتجاج بھی متوقع ہے۔
فرانس، یورپ میں مسلم اقلیتی آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 50 لاکھ یا اس سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔
تاہم وہاں اسلام مخالف بیانات و اقدامات میں شدت دیکھی گئی ہے اور حال ہی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کے بیانات نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔
فرانس کے ایک اسکول میں ایک استاد نے آزادی اظہار رائے کے سبق کے دوران متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے 2006 میں شائع کردہ گستاخانہ خاکے دکھائے تھے۔
جس کے چند روز بعد ایک شخص نے مذکورہ استاد کا سر قلم کردیا تھا جسے پولیس نے جائے وقوع پر ہی گولی مار کر قتل کردیا تھا اور اس معاملے کو کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک کیا گیا تھا۔
فرانسیسی صدر نے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کو ‘ہیرو’ اور فرانسیسی جمہوریہ کی اقدار کو ‘مجسم’ بنانے والا قرار دیا تھا اور فرانس کے سب سے بڑے شہری اعزاز سے بھی نوازا تھا۔
استاد کی آخری رسومات میں فرانسیسی صدر نے خود شرکت کی تھی جس کے بعد 2 فرانسیسی شہروں کے ٹاؤن ہال کی عمارتوں پر چارلی ہیبڈو کے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں کی کئی گھنٹوں تک نمائش کی گئی تھی۔
فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بیان سامنے آیا ہو، قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس کے سیکیولر "بنیاد پرست اسلام” کے خلاف دفاع کے منصوبوں کی نقاب کشائی کی تھی اور اس دوران اسلام مخالف بیان بھی دیا تھا۔
ایمانوئیل میکرون نے فرانس کی سیکیولر اقدار کے ‘بنیاد پرست اسلام’ کے خلاف ‘دفاع’ کے لیے منصوبے کو منظر عام پر لاتے ہوئے اسکولوں کی سخت نگرانی اور مساجد کی غیر ملکی فنڈنگ کے بہتر کنٹرول کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے ممالک کا نام لیتے ہوئے، اس بات پر زور دیا تھا کہ فرانس میں ‘اسلام کو غیر ملکی اثرات سے آزاد’ کروانا ضروری ہے۔
اس مقصد کے لیے، حکومت مساجد کی غیر ملکی مالی اعانت کے بارے میں جانچ پڑتال کرے گی اور اماموں کی تربیت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے یا فرانسیسی سرزمین پر غیر ملکی مبلغین کی میزبانی پر پابندی لگائے گی۔
جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے مصر کے ممتاز اسلامی ادارے جامعۃ الازھر کے اسکالرز نے ”اسلام پسند علیحدگی” کے حوالے سے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون کے بیان کو ‘نسل پرستانہ’ اور ‘نفرت انگیز’ تقریر قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی کابینہ کے ابتدائی ارکان کا اعلان کر دیا

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی کابینہ کے ابتدائی ارکان کا اعلان کر دیا

واشنگٹن: ایلی یاندرو کو سیکریٹری ہوم لینڈ نامزد کیا گیا ہے جو ہوم لینڈ سیکورٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے