مذہب کی جبری تبدیلی کو روکنے کے لیے قانون کے مسودے کو حتمی شکل دے دی

مذہب کی جبری تبدیلی کو روکنے کے لیے قانون کے مسودے کو حتمی شکل دے دی

اسلام آباد: پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہی، جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز بھی موجود تھے

نیوز کانفرنس میں شریک اقلیتی کمیشن اراکین میں شنیلا روتھ، پروفیسر سارا صفدر، ڈاکٹر سروپ سنگھ اور مفتی گلزار احمد نعیمی شامل تھے۔
کمیشن کے سربراہ چیلا رام نے کہا کہ وزارت مذہبی امور نے مسودہ غور فکر اور جائزے کے لیے وزارت قانون کو ارسال کردیا ہے اور وزیراعظم نے اقلیتی کمیشن کو مجوزہ قانون کے لیے حکومتی حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے ہمیں اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ اقلیتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گےاور حکومت جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی اقلیتی کمیشن نے غیر مسلموں کو درپیش مسائل جاننے کے لیے ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ قبلہ ایاز نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ کمیشن کو مضبوط کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کمیشن نہ صرف ملک کی ضرورت ہے بلکہ ملک کے تشخص کو بہتر بنانے کے لیے بھی ضروری ہے‘۔
سینیٹر انوار کاکڑ کی سربراہی میں جبری تبدیلی مذہب کے خلاف قائم پارلیمانی کمیٹی کے کیےگئے کام کو بھی سراہا۔
قبلہ ایاز کا مزید کہنا تھا کہ قومی اقلیتی کمیشن اتحاد کے لیے کام کرے گا تا کہ قوم کے خلاف سازشوں کا قلع قمع کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں

پی ڈی ایم کے جلسوں سے عمران خان کی حکومت نہیں جائے گی

پی ڈی ایم کے جلسوں سے عمران خان کی حکومت نہیں جائے گی

اسلام آباد: وزیرریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے