مائی جیواں اور اُن کے شوہر نہال فقیر دونوں ہی شاہ عبدالطیف کے مرید تھے

مائی جیواں اور اُن کے شوہر نہال فقیر دونوں ہی شاہ عبدالطیف کے مرید تھے

سندھ: مائی جیواں زیادہ تر سُر ماروی گاتی تھیں اور اُن کی آواز میں وہ درد اور سُروں میں وہ سوز تھا جسے سُن کر لوگ حالتِ وجد میں آ جاتے اور مشہور ہے کہ کئی کمزور دل افراد کلام کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے بھی چلے جاتے

اس احوال کی خبر جب حاکمِ وقت کو ہوئی تو انھوں نے انسانی جانوں کو بچانے کی غرض سے مائی جیواں کے درگاہ بھٹ شاہ پر کلام گانے پر پابندی عائد کر دی
جیواں اس پابندی سے بہت دلبرداشتہ ہوئیں اور انھوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ بادشاہ کی لگائی پابندی کے باعث وہ تو مستقبل میں نہیں گا سکیں گی لیکن اُن (جیواں) کی وفات کی بعد وہ (جیواں کے شوہر) اُن کی قبر پر آ کر یہی سُر ماروی ضرور گائیں۔
جیواں کی وفات ہو گئی تو اُن کے شوہر نہال فقیر نے اپنی اہلیہ کی وصیت پر عمل کیا اور اُن کی تدفین کے بعد اُن کی قبر پر سُر ماروی کا الاپ کیا۔ داستان گُو بتاتے ہیں کہ جیواں کے شوہر نہال فقیر کی جانب سے بلند کیے جانے والے الاپ کا جواب قبر سے آنے لگا اور کافی دیر تک قبر کے اُوپر نہال فقیر اور قبر کے اندر مائی جیواں ساتھ گاتے رہے۔
یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر گاتے گاتے وہیں نہال فقیر کی زندگی بھی تمام ہوئی۔
مائی جیواں کے بعد لگ بھگ ڈھائی، تین سو سال تک پھر کسی عورت کو درگاہ میں گانے کا موقع نہ مل سکا۔ بھٹ شاہ کے عرس کے موقع پر بڑی بڑی گلوکارائیں آتیں، لیکن وہ درگاہ کے احاطے کے بجائے آڈیٹوریم میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے لوٹ جاتیں کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھٹ شاہ کی درگاہ کے اندر گانے کے کچھ کڑے اصول و ضوابط ہیں۔
بھٹائی کے راگی فقیر ہی گا سکتے ہیں، جو اُن کے مرید بھی ہوں، جنھوں نے سُرتال سیکھا ہو یعنی بےسرے یا شوقیہ گائیک نہ ہوں، جنھیں شاہ سائیں کا کلام یاد ہو اور سب سے بڑھ کر انھیں طنبورہ بجانا بھی آتا ہو۔ اِن خصوصیات کے حامل راگی فقیروں کا ایک خاص یونیفارم بھی ہوتا ہے جو عموما سیاہ یا گہرے نیلے رنگ کے ملبوسات پر مشتمل ہوتا ہے۔
استاد منٹھار کا کہنا ہے کہ ’شاہ سائیں کا کلام امن اور محبت کا درس دیتا ہے۔ آپ جتنے غصے میں بھی ہوں یہ کلام گائیں یا صرف سُن ہی لیں تو آپ کے اندر ٹھنڈک اُتر جاتی ہے۔ ضد اور انا سب مر جاتی ہے، اندر پیار ہی پیار پھیل جاتا ہے۔
انپوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری بچیاں بھی گا سکتی ہیں، شاید میں بھی نہیں سوچتا اگر آسٹریا کے ایک شو میں ایک خاتون اس طرف توجہ نہ دلاتیں۔ ہم شاہ سائیں کا کلام گاتے ہوئے دو آوازیں نکالتے ہیں، ایک اپنی یعنی مردانہ آواز اور جب عورت کے بول ہوتے توہم آواز کو باریک کر کے عورت کی آواز نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس شو میں ایک خاتون نے کہا کہ کیا بہتر نہیں ہوگا کہ آپ عورت والا حصہ عورتوں سے ہی گوائیں۔اس سے شاہ صاحب کا کلام زیادہ پُراثر ہو گا۔ یہ بات میرے اندر بیٹھ گئی تھی۔ میں جتنا اس بارے میں سوچتا رہا، میرا خیال پختہ ہوتا چلا گیا۔ اس خواب کو تعبیر کرنے میں پی لنگ نے بہت مدد دی۔
میں ڈرتا تھا کہ لوگ لڑکیوں کے گانے کو غلط سمجھیں گے مگر پی لنگ نے میرا حوصلہ بڑھایا۔ میں نے پی لنگ کے ساتھ اپنی دونوں بیٹیوں کو بھی راگ سکھائے، پھر اس گروپ میں بتول فاطمہ شامل ہوئیں اور دیگر لڑکیاں بھی۔ آج یہ سات سورمیاں میرا وہ خواب ہے جس کی تعبیر ایک روشنی بن کر پھیل رہی ہے۔ لوگ اب بھی باتیں بناتے ہیں مگر مجھے اب پروا نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ شاہ سائیں لکھتے ہیں کہ تم چاہے جتنے بڑے مرد ہو جاﺅ ماروی جیسے نہیں ہو سکتے جس نے اپنے وطن ملیر کی مٹی اورجھونپڑوں کو ہیرے جواہرات اور محلات پر ترجیح دی تھی۔
سوہنی کو بھی بغاوت کی علامت بنا کر سماج کو پیغا م دیا کہ لڑکی کو بھی اپنا شریک حیات پسند کرنے کا حق ہے۔ سوہنی مہیوال کی سوہنی نے گھر والوں کی پسند ٹھکرا دی تھی اور بہت دلیری سے آدھی رات کو دریا پار کر کے اپنے محبوب سے ملنے جایا کرتی تھی، اس کہانی کو جس سُر میں بیان کیا جاتا ہے اس سُر کا نام بھی سوہنی ہے اور اسے گایا بھی آدھی رات کے بعد جاتا ہے۔‘
بھٹائی شاہ کے کلام میں 31 راگ ہیں۔ ہر سر ایک الگ کہانی ہے۔ سات محبت کی کہانیاں ہیں۔ صرف سر سسی کو چار مختلف راگوں میں گایا گیا ہے۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی کی درگاہ کے گدی نشیں سید وقار حسین شاہ ایک تعلیم یافتہ سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد کچھ عرصے تک تو اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ ہوتا رہا مگر پھر لوگ اپنے اصل کی طرف لوٹ آئے اور انتہا پسندی کی لہر میں لوگوں نے صوفی ازم میں پناہ حاصل کی۔
اس سال شاہ عبدالطیف بھٹائی کے عرس کے موقع پر اگرچہ ان راگی سورمیوں کو گانے کے لیے دعوت نہیں دی گئی جس سے وہ کچھ مایوس ضرور ہوئیں مگر ان کے حوصلے بلند ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

لمبی اور بور دوپہروں میں ہمارے ایک کلاس فیلو نے کُفر ڈھونڈ لیا

لمبی اور بور دوپہروں میں ہمارے ایک کلاس فیلو نے کُفر ڈھونڈ لیا

ایک کونے میں جا کر شلوار کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک پمفلٹ نکالا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے