آواز کی رفتار سے 1.2 گنا زیادہ تیز

آواز کی رفتار سے 1.2 گنا زیادہ تیز

نیویارک: اب تقریباً دو دہائیوں بعد دنیا ایک بار پھر ایسے طیارے بنانے اور استعمال کرنے کے قریب ہے جو آواز کی رفتار سے زیادہ تیز اڑ سکیں گے

رواں ماہ ’بوم سپر سونک‘ نامی کمپنی نے اپنا ایکس بی 1 آزمائشی سپرسونک (آواز کی رفتار سے تیز) طیارہ متعارف کروایا ہے۔ سنہ 1968 میں سوویت یونین کے ٹوپولیف ٹی یو 144 کے بعد یہ پہلا سویلین سپر سونک طیارہ تھا۔
اس باریک اور نوکیلی مشین کے ذریعے بوم کمپنی اپنے مجوزہ ڈیزائن ’اوورچر‘ کے مختلف پہلوؤں کو آزما سکے گا۔ اوورچر اس سے زیادہ شاندار تکونے پروں والا طیارہ ہو گا، جو کونکورڈ کی یاد دلائے گا۔
اوورچر میں 65 سے 88 مسافروں کی گنجائش ہو گی اور یہ سمندروں کے اوپر ماک 2.2 (آواز کی رفتار سے 1.2 گنا زیادہ تیز) رفتار کے ساتھ اڑان بھرے گا، جس سے انسانی آبادی اس کی رفتار سے پیدا ہونے والے سونک بوم (آواز کے دھماکے) سے محفوظ رہے گی۔
ناسا کے پاس اپنا ایک عجیب الخلقت آزمائشی طیارہ ہے، پتلا اور لمبا ایکس 59۔ یہ سنہ 2022 میں اڑان بھرے گا اور اس میں کوشش کی جائے گی کہ خشکی کے اوپر مسلسل آواز کی رفتار سے زیادہ تیز اڑان بھری جا سکے۔ چنانچہ اس کے لیے ضرورت ہے کہ سونک بوم کو ختم کرنے یا کم از کم حد پر رکھنے کے طریقے تلاش کیے جائیں۔
اور اس کے بعد ایریون نامی کمپنی بھی موجود ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اس کا ’اے ایس ٹو‘ ڈیزائن اس دہائی کے آخر تک سپرسونک رفتار کی شہری پروازیں شروع کر دے گا۔ مگر محض آٹھ سے 10 مسافروں کی گنجائش کے حامل اس طیارے کی نظریں ایک بالکل مختلف مارکیٹ پر ہیں، یعنی سپرسونک کاروباری سفر
بینسٹر کہتے ہیں کہ یہ بات زیرِ غور ہونی چاہیے کہ یہ طیارے ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ کمرشل پروازوں کے شعبے میں داخل ہونے والے یہ طیارے بالکل مختلف شعبوں میں کام کریں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اے ایس ٹو کے ساتھ ایریون کی کوشش ہو گی کہ خشکی پر ماک 1.4 (آواز کی رفتار سے اعشاریہ چار گنا زیادہ) کی رفتار سے سفر کیا جائے، جس سے کم سونک بوم پیدا ہو گا۔ بوم سمندروں کے اوپر ماک 2.2 کی رفتار سے اڑنا چاہتا ہے اور میرے خیال میں اس کی مارکیٹ میں زیادہ طلب ہو گی۔
ان طیاروں کو انجینیئرنگ کا ایک مسئلہ حل کرنا ہو گا کہ جب وہ اس رفتار پر سفر کرتے ہیں تو اس وقت ہوا انجن میں کیسے داخل ہوتی ہے۔
تمام طیاروں کے انجن میں ہوا جانے سے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہوا کے داخلے کی جگہ (اِن ٹیک) ایسے ڈیزائن کی جاتی ہے کہ ہوا کا یہ بہاؤ توڑا جا سکے اور اسے ایسی رفتار پر لایا جا سکے جسے انجن برداشت کر سکے۔
حساس معاملہ ہے جس پر کونکورڈ کی ریٹائرمنٹ کے وقت برطانیہ اور فرانس کے حکام میں تنازع بھی پیدا ہو گیا تھا۔ ایئر فرانس نے اپنے کونکورڈ طیارے ریٹائر کر دیے تھے لیکن برٹش ایئرویز ان طیاروں کی پروازیں جاری رکھنا چاہتا تھا۔
ہوابازی کی صنعت اس وقت کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث مشکل میں ہے۔ ایئر لائن کمپنیوں نے مسافروں کی کمی کی وجہ سے طیاروں کے آرڈرز میں یا تاخیر کی ہے یا انھیں منسوخ کر دیا ہے۔
آواز کی رفتار سے اعشاریہ چار گُنا زیادہ کی حد کے حامل ایکس 59 کی کوشش ہو گی کہ اس کا سونک بوم بمشکل ہی زمین سے ٹکرائے۔ یہ سب ’این ویو‘ نامی لہر پر منحصر ہے اور اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ جب سونک بوم اونچائی سے زمین کی جانب آتا ہے تو جو دباؤ ہم محسوس کرتے ہیں وہ انگریزی حرف این کی شکل کا ہوتا ہے۔ ایکس 59 کی کوشش ہے کہ ریگولیٹری ادارے ایک قابلِ برداشت سونک بوم کی حد متعین کریں۔
اس کی پرواز سنہ 2022 میں متوقع ہے اور اس کی ساخت سے ہوگا یہ کہ سونک بوم اس کے طویل جسم پر پھیلتا رہے گا جس سے اس کا زمین پر اثر کم سے کم ہوگا۔
سنہ 2024 آنے تک منفرد ساخت کا حامل یہ طیارہ امریکہ کے مخصوص حصوں میں آواز کی رفتار سے زیادہ تیز پرواز کرے گا اور جہاں جہاں سے یہ گزرے گا، وہاں کی آبادی کا اس کے شور پر ردِعمل معلوم کیا جائے گا۔
ہائی ڈیفینیشن کیمرے بھی شامل ہیں کیونکہ پائلٹس کو اپنی بصارت کی راہ میں حائل طویل ناک کے آگے بھی دیکھنا ہوگا۔ کونکورڈ میں بھی یہی مسئلہ درپیش تھا جس کی وجہ سے اس کی ناک کو مشہورِ زمانہ ڈروپ سنوٹ طرز پر بنایا گیا جو ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران نیچے کر دی جاتی ہے جبکہ پرواز کے دوران اسے سیدھا کر لیا جاتا ہے۔
کونکورڈ سے انجینیئرنگ کا یہ تصور حاصل کرنے پر بینِسٹر کو اطمینان ہوجانا چاہیے۔ اور ایکس 59 اور ایکس بی ون دونوں ہی کی انوکھی ساخت کی وجہ سے جہاں تک ظاہری خوبصورتی کی بات ہے تو یہاں کونکورڈ فاتح ہے۔
اس کی خوبصورتی نے لوگوں میں وہ اُنسیت پیدا کی جو آج تک بھی قائم ہے، جیسا کہ کونکورڈ اُڑانے والے تجربہ کار پائلٹ مائیک بینِسٹر کہتے ہیں کہ ’کونکورڈ دماغ کے آرٹ اور سائنس دونوں ہی حصوں کے لیے خوشگوار احساس پیدا کرتا تھ۔

یہ بھی پڑھیں

ڈرائیونگ پرمٹ کو لائسنس میں بغیر ڈرائیونگ ٹیسٹ کے تبدیل کردیا جائے گا

ڈرائیونگ پرمٹ کو لائسنس میں بغیر ڈرائیونگ ٹیسٹ کے تبدیل کردیا جائے گا

ریاض: سعودی ٹریفک اتھارٹی نے ڈرائیونگ پرمٹ کو لائسنس میں تبدیل کرنے کے طریقہ کار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے