کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری حکومت سندھ کی ہدایات پر نہیں ہوئی

کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری حکومت سندھ کی ہدایات پر نہیں ہوئی

کراچی: جو کچھ ہوا ہم اس بات کی تہہ تک جائیں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ کیپٹن (ر) صفدر نے مزار قائد پر کیا وہ نامناسب تھا

خود عمران خان جب مزار قائد پر گئے تھے اس وقت کی فوٹیج دیکھ لیں کہ کیا ہوا تھا۔
مقدمہ پی ٹی آئی کی درخواست پر نہیں بلکہ عام شہری کی درخواست پر شام 7 بجے درج ہوا، پر رد عمل دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ میں نے چیک کیا ہے اور شام 7 بجے کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی اس پر لکھا گیا وقت غلط ہے
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنان نے تھانے کے باہر جا کر شور شرابہ کیا اور کہا کہ ہم آئی جی اور چیف سیکریٹری پر دباؤ ڈالیں گے لیکن وہ جماعت جو کچھ مزار قائد کی بے حرمتی کرچکی ہو انہیں یہ زیب نہیں دیتا۔
صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ جو کچھ کیپٹن (ر) صفدر نے کیا وہ اسے مناسب نہیں سمجھتے لیکن جس انداز میں انہیں گرفتار کیا گیا وہ قابل مذمت ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ اگر اس قسم کا کوئی فیصلہ ہونا تھا تو یہ سندھ حکومت کو اعتماد لینے کے بعد ہونا چاہیئے تھا، یہ اقدام ہمیں بتائے بغیر اٹھایا گیا ہے۔
گرفتاری کے معاملے کو صوبائی حکومت کس طرح سنبھالے گی اور ان رہنماؤں کو واپس جانا تھا اس لیے سندھ حکومت کو بہت تیزی سے تفتیش کرنی ہوگی کہ اصل معاملہ کیا ہے اور انہیں وہاں سے نکالنا ہوگا، کیا یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ حکومت ہونے کے ناطے بالکل ہماری ذمہ داری ہے لیکن جو کچھ ہوا یہ پی ڈی ایم کی جماعتوں میں خلیج پیدا کرنے کی سازش ہے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اس کا ازالہ کریں اور سازش کو ناکام بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت سمجھ دار ہے وہ اس بات کو محسوس کررہے ہوں گے کہ جو کچھ ہوا ہے پیپلز پارٹی کو خراب کرنے اور ہمارے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لیے ہوا۔
صبح کراچی پولیس نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرلیا تھا۔
کراچی کے ضلعی شرقی کے پولیس تھانہ بریگیڈ میں وقاص احمد نامی شخص کی مدعیت میں مزار قائد کے تقدس کی پامالی اور قبر کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنما گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شرکت کے لیے کراچی پہنچے تھے۔
باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں شرکت سے قبل رہنماؤں اور کارکنان نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی تھی۔
فاتحہ ختم ہوئی تو قبر کے اطراف میں نصب لوہے کے جنگلے کے باہر کھڑے مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مریم نواز کے حق میں نعرے لگانے شروع کیے جس پر کیپٹن (ر) صفڈر نے بظاہر مزار قائد پر اس طرح کے نعرے لگانے سے روکنے کا اشارہ کر کے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا اور یہ بھی مزار قائد کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔
مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما خاموش کھڑے رہے لیکن کیپٹن (ر) نے ایک اور نعرہ لگانا شروع کردیا ’مادر ملت زندہ باد‘ اور ہجوم نے بھی اس پر جذباتی رد عمل دیا۔

یہ بھی پڑھیں

عمران خان کسی ایک شہرکی نہیں پورے ملک کی ترقی چاہتے ہیں

عمران خان کسی ایک شہرکی نہیں پورے ملک کی ترقی چاہتے ہیں

سکھر: پی ٹی آئی یوتھ ونگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے