سعودی فوجی جرمن افواج کی تنصیبات پر تربیت حاصل کرسکیں گے، دونوں ممالک میں معاہدہ طے

ریاض: جرمن چانسلر انجیلا مریکل نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران کئی اہم سمجھوتوں کو حتمی شکل دے دی۔ قبل ازیں جدہ پہنچنے پر انجیلا میریکل کا سعودی بادشاہ نے استقبال کیا۔ میرکل کے ہمراہ تاجروں کو ایک بڑا وفد بھی اس دورے پر سعودی عرب پہنچا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن چانسلرانجیلا میرکل سات برسوں بعد پہلی مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کر رہی ہیں۔

جرمن سفارتی ذرائع کے مطابق اس دوران وہ سعودی حکومت سے کئی اہم حساس معاملات پر گفتگو بھی کریں گی۔ ان میں مہاجرین کو پناہ دینے کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔میرکل سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارت بھی جائیں گی۔  توقع ہے کہ میرکل گلف ممالک کے ساتھ ملاقاتوں میں زور دیں گی کہ وہ خطے میں شورش زدہ ممالک سے ہجرت کرنے والے افراد کو پناہ بھی دیں۔ میرکل سعودی حکام کے ساتھ گفتگو میں ریاض حکومت کی طرف سے ایسے مذہبی اداروں کی فنڈنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں گی، جو مبینہ طور پر اسلام کے خاص مکتب فکر کا پرچار کر رہے ہیں۔

جرمن ذرائع کے مطابق میرکل کے اس دو روزہ دورے کا ایک مقصد دنیا کے بیس بڑے صنعتی ملکوں اور ترقی کی دہلیز پر کھڑے ملکوں کے گروپ جی ٹونٹی کی آس سربراہ کانفرنس کی تیاریاں کرنا بھی ہے، جو جولائی میں جرمن شہر ہیمبرگ میں منعقد ہو گی اور جس میں سعودی عرب بھی شریک ہو گا۔ دیگر کئی مغربی اعلیٰ خواتین سفارتکاروں اور رہنماﺅں کے برعکس میرکل نے قدامت پسند سعودی عرب میں اپنے بال نہیں ڈھانپے۔سعودی حکام نے بتایا کہ جرمن چانسلر میرکل نے سعودی عرب کے ساتھ عسکری تعاون و تربیت کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے۔ یوں سعودی فوجی جرمن افواج کی تنصیبات پر تربیت حاصل کر سکیں گے۔

 دونوں ممالک نے سعودی خواتین پولیس اہلکاروں کی تربیت اور تعاون کی ایک ڈیل کو بھی حتمی شکل دے دی ہے۔ اس کے علاوہ اس دورے کے دوران کئی اور دو طرفہ سمجھوتے بھی طے کیے جائیں گے۔ برلن حکومت کے مطابق اس دورے میں ہتھیاروں کے لین دین پر بات نہیں ہو گی۔ اس دورے میں ’اسلامک سٹیٹ‘ کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شام میں جاری جنگ اور ہمسایہ ملک یمن کی خانہ جنگی میں سعودی عرب کی مداخلت پر بھی بات ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں

جو بائیڈن کا 2020 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان

جو بائیڈن کا 2020 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان

سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے