سپریم کورٹ نے اقلیتوں کیلئے حکومتی کمیشن کی تشکیل پر برہمی کا اظہار کردیا

سپریم کورٹ نے اقلیتوں کیلئے حکومتی کمیشن کی تشکیل پر برہمی کا اظہار کردیا

اسلام آباد: چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ازخود نوٹس پرسماعت کی

چیف جسٹس نے کمیشن کی تشکیل سے متعلق استفسار کیا تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انہیں بھی معاملے پر ابہام ہے،کمیشن وزارت مذہبی امور کے ماتحت ہے ،جس پرجسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سیکرٹری مذہبی امورکو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، کمیشن کیسے بنا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حکومت دوسرے کاموں کیلئے جتنے مرضی کمیشن بنائے لیکن ایک دوسرے کے راستے میں نہیں آنا چاہیئے۔
وقفے کے بعد سماعت میں چیف جسٹس نے سیکریٹری مذہبی امور کا پوچھا تو جوائنٹ سیکرٹری وزارت مذہبی نے بتایاکہ سیکریٹری کراچی میں ہیں۔
دوران سماعت حکومتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار اپنی ہی حکومت کیخلاف بول اٹھے ،کہا کہ حکومت عدالتی کمیشن سے تعاون نہیں کررہی ،وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق اور شیریں مزاری نے اقلیتی ایکٹ پر کام نہیں کیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ اسلام آباد میں اقلیتیوں کی 108عبادت گاہوں کو سیکیورٹی دی گئی ،ملازمتوں میں اقلیتوں کے کوٹے پر بھی عملدرآمد ہو رہا۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کاغذی کارروائی سے کچھ نہیں ہوگا، عدالتی فیصلے فائلوں میں رکھنے کیلئے نہیں ہوتے، فیصلوں کے فوائد عوام تک پہنچائیں گے۔
عدالت نے تعلیم اور مذہبی امور کے سیکرٹریز سے عملی اقدامات کی تفصیلات طلب کرتےہوئے کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھیں

آئی جی سندھ کو اغوا کیا گیا تو انہوں نے ایف آئی آر درج کیوں نہیں کرائی

آئی جی سندھ کو اغوا کیا گیا تو انہوں نے ایف آئی آر درج کیوں نہیں کرائی

اسلام آباد: شہزاد اکبر نے کہا کہ ملک و قوم کی بدنامی کیلئے سیاسی سرکس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے