معاشرے کو خالص اسلامی نظام میں ڈھالنے کی خواہاں

معاشرے کو خالص اسلامی نظام میں ڈھالنے کےخواہاں

اس تنظیم کی بنیاد مارچ 1928 میں مصر کے ایک 22 سالہ معلم حسن البنا نے رکھی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے ہو چکے تھے اور عرب دنیا میں متعدد اسلامی ریاستیں وجود میں آ چکی تھیں

حسن البنا کی تنظیم اخوان المسلمین بہت جلد ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئی جس نے نہ صرف تعلیم یافتہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا بلکہ عام لوگوں میں اسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس تحریک نے مذہب اور سیاست کو یکجا کرنے کے تصور کو فروغ دیا اور اس کے اثرات دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں دیکھے گئے۔
شیخ حسن البنا 14اکتوبر 1906 کو محمودیہ کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ وہ تصوف کے شاذلی مکتبہ فکر سے وابستہ تھے اور انھوں نے شیخ عبدالوہاب حصافی کی خدمت میں تعلیم مکمل کی۔ سنہ 1927 میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ اسماعلیہ کے ایک سکول سے بطور مدرس وابستہ ہو گئے۔ اسی زمانے میں انھیں شکایات موصول ہوئیں کہ نہر سویز کا کنٹرول سنبھالنے والی برطانوی کمپنیاں مصری کارکنوں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہیں۔
انھوں نے دیکھا کہ ان کمپنیوں کے یورپین منیجرز عالی شان بنگلوں میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ مصریوں کے کچے گھروندے اُن کی مفلوک الحالی کی زندہ تصویر تھے۔ انھیں یہ بھی محسوس ہوا کہ مصر کی ثقافت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اسے ایک مسلم تشخص رکھنے والے ملک کی بجائے فرعون کے زمانے کا ملک بنایا جا رہا ہے۔
ایسے میں حسن البنا کو ایک ایسی تنظیم کے قیام کی ضرورت محسوس ہوئی جو نہ صرف مصر بلکہ دیگر عرب ممالک میں بھی بیرون ممالک کے اثر و نفوذ میں کمی کر سکے بلکہ وہاں کے مقامی لوگوں کو بھی انصاف دلوا سکے۔
مارچ 1928 میں حسن البنا نے باضابطہ طور پر اخوان المسلمین کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا مقصد اور نصب العین حقیقی اسلام کا نفاذ اور بیرونی غلبے کے خلاف جہدوجہد کا آغاز کرنا بیان کیا گیا تھا۔
اگلے تین چار برس اس تنظیم کے شاخوں کے قیام میں گزرے۔ سنہ 1932 میں جب حسن البنا کا تبادلہ قاہرہ ہوا تو اخوان المسلمون ملک کے طول و عرض میں پھیلنے والی ایک تنظیم بن چکی تھی۔ اس کے ارکان کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کا انتظامی ڈھانچہ بھی وسیع ہو چکا تھا۔
حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اخوان المسلمون کی تنظیم کے ذریعے انھوں نے اپنے اسی نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کا کام شروع کر دیا۔ جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمین کی شاخیں قائم کر دی گئیں۔ طلبا اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے اخوات المسلمین کے نام سے علیحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔
اخوان نے اپنے مدرسے بھی قائم کیے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ انھوں نے ایک ایسا نظام تربیت قائم کیا جس کے تحت اخوان کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں۔
حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ 50 سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزمائے جا رہے ہیں اور وہ سخت ناکام ہوئے ہیں لہٰذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیے، انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کے موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔
اگلے دس برس میں اخوان المسلمین نے اپنا پریس بھی قائم کر لیا اور اپنے جرائد اور ثقافتی پروگراموں کا سلسلہ بھی جاری کر دیا۔ سنہ 1935 میں رشید رضا کے انتقال کے بعد حسن البنا نے ان کے رسالے المنار کی ادارت سنبھالی۔ اخوان نے خود بھی ایک روزنامہ، ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ جاری کیا۔
روزنامہ اخوان المسلمین مصر کے صف اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔ ان مطبوعات اور چھوٹے چھوٹے کتابوں کے ذریعے اخوان نے اپنے اغراض و مقاصد کی پُرزور تبلیغ کی اور بتایا کہ اسلام کس طرح زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے۔
وقت کے ساتھ حسن البنا کے جوش و جذبے میں بھی شدت پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں وہ عملی سیاست میں حصہ لینے لگے۔ سنہ 1936 میں انھوں نے مصر کے بادشاہ، وزیراعظم اور دیگر عرب حکمرانوں کے نام ایک خط شائع کیا جس میں ان سے اسلامی نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
دو سال بعد انھوں نے مصر کے بادشاہ سے مصر کی سیاسی جماعتوں کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ تمام جماعتیں بدعنوانیوں میں ملوث ہو چکی تھیں جس کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیل رہا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مصر پر برطانوی تسلط کے خلاف جن ہنگاموں کا آغاز ہوا ان میں سب سے نمایاں کردار اخوان المسلمین کا ہی تھا۔ اس وقت تک مصر میں اس جماعت کے ارکان کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور اس کی شاخیں دوسرے عرب ممالک میں بھی قائم ہوگئی تھیں۔
حسن البنا نے سنہ 1948 میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلا کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے سرکاری افواج کے مقابلے میں زیادہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ دوران جنگ انگریزوں نے آزادی مصر کا جو اعلان کیا تھا اسے اخوان نے فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا۔
اخوان کی روز بروز مقبولیت سے ایک طرف مصر شاہ فاروق خطرہ محسوس کرنے لگے دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان پر پابندی لگائی جائے چنانچہ نو دسمبر 1948 کو مصری حکومت نے اخوان المسلمین کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار اخوان کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
جمال الدین افغانی اور محمد عبدہ جیسے دیگر مصلحین کی طرح حسن البنا کو بھی پختہ یقین تھا کہ یورپ کے غلبے اور تسلط کا واحد سبب مسلمانوں کی وہ کمزوری ہے جو اسلام کی حقیقی راہ سے ان کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کمزوری پر قابو پانے اور مصر کا اقتدار واپس لینے کے لیے مسلمانوں کو اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے احکامات کے تابع بنانا ہوں گی، جیسا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے کیا تھا۔
حسن البنا کے قتل کے بعد یہ جماعت خود بخود دم توڑ دے گی مگر یہ خیال، خیال خام رہا۔ حسن البنا کے بعد اس جماعت کی قیادت حسن اسماعیل الحدیبی نے سنبھال لی تاہم ااخوان المسلمین میں جو شخصیت سب سے زیادہ نمایاں ہوئی وہ سید قطب کی تھی۔
سید قطب بھی کم و بیش حسن البنا کے ہم عمر تھے، ان کا تعلق بھی تدریس کے شعبے سے تھا اور وہ بھی متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ سنہ 1948 میں انھیں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا جانے کا موقع ملا۔ سنہ 1950 میں وہ مصر واپس آئے تو ملک کی سیاست میں بحرانی کیفیت پیدا ہوچکی تھی جس کے نتیجے میں جولائی 1952 میں فوجی انقلاب آ گیا۔
اس انقلاب کی قیادت جمال عبدالناصر کر رہے تھے۔ جمال عبدالناصر اور ان کے ساتھی معاشرتی عدل اور اصلاحات کے نفاذ کے بارے میں اخوان المسلمون کے بیشتر نظریات کو پسند کرتے تھے۔
سید قطب کو پیشکش کی کہ وہ انقلابی حکومت کا ساتھ دیں مگر سید قطب نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔ سنہ 1954 میں مصری حکومت نے اخوان المسلمین کو غیر قانونی قرار دے کر سیدقطب اور دیگر رہنمائوں کو نظر بند کر دیا۔ اخوان المسلمون کے رہنما پر جمال عبدالناصر کو قتل کرنے کی سازش تیار کرنے کا الزام لگایا گیا اور اس جماعت کے چھ ممتاز رہنمائوں کو پھانسی دے دی گئی۔
سید قطب نظر بند کر دیے گئے جہاں انھوں نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ سنہ 1962 میں رہا ہوئے جس کے بعد ان کا رابطہ اخوان المسلمین کے ہمدردوں کے ساتھ ہوا۔ سنہ 1965 میں وہ ایک مرتبہ پھر گرفتار ہوئے، ان پر صدر ناصر کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کرنے ، ملک میں افراتفری پھیلانے اور بالآخر اقتدار پر قبضہ کرنے کے الزامات تھے۔
29 اگست 1966 کو ان کوان کے دو ساتھیوں عبدالفتح اسماعیل اور محمد یوسف حواش کے ساتھ سزائے موت دے دی گئی۔
سید قطب کے پھانسی دیے جانے کے بعد اخوان المسلمین پر مصائب کا ایک لمبا دور شروع ہوا مگر یہ جماعت ختم نہ ہوئی اور اس کا دائرہ کار پورے عرب علاقوں میں پھیل گیا۔ سنہ 1970 میں جمال عبدالناصر کی وفات کے بعد انوار السادات مصر کے صدر بنے جو کسی زمانے میں صدر ناصر اور اخوان المسلمین کے درمیان رابطہ کار تھے۔
اس پرانے تعلق کی بنا پر اخوان المسلمون نے ابتدا میں انوار السادات کی حکومت کی حمایت کی مگر بعد میں یہ تعلقات خراب ہوتے گئے۔ سنہ 1981 میں انوار السادات قتل کر دیے گئے اور حسنی مبارک مصر کے صدر بن گئے جو 32 سال تک مصر کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ سنہ 2011 میں اخوان المسلمین کی تحریک کے نتیجے میں حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
سنہ 2012 میں اخوان المسلمون کی حمایت سے وجود میں آنے والی حزب الحریت والعدل (فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی) نے مصر میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اخوان المسلمین محمد خیرت سعد الشاطر کو صدر بنانا چاہتی تھی مگر ان کے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اس جماعت کے بانی صدر محمد مرسی مصر کے صدر منتخب ہو گئے۔
محمد مرسی کومصر کے مشہور عالم دین صفوت حجازی کی تائید بھی حاصل تھی۔ صدر منتخب ہونے کے بعد محمد مرسی نے حزب الحریت والعدل (فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی) کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔
محمد مرسی نائن الیون کے واقعے کو امریکی سازش قرار دیتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ اس سازش کا مقصد افغانستان اور عراق پر امریکی حملے کا جواز فراہم کرنا ہے، امریکا نے ان کے ان نظریات کی پُرزور مخالفت کی۔ محمد مرسی مصر کے نئے آئین میں ترمیم کے بھی خواہش مند تھے جس کے بعد ان کے مطابق اس آئین پر شریعت کا رنگ غالب آ جاتا۔
محمد مرسی کی اس خواہش پر ان کے اور فوج کے درمیان خلیج قائم ہوگئی اور محمد مرسی کو برسراقتدار آئے ہوئے صرف ایک سال گزرا تھا کہ انھیں ان کے عہدے سے ہٹا کر جنرل عبدالفتح السیسی مصر کے حکمران بن گئے۔
محمد مرسی گرفتار کر لیے گئے اور اپریل 2015 میں محمد مرسی اور ان کے ساتھیوں کو بیس، بیس سال قید کی سزا سنا دی گئی، ان پر کئی دیگر جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام لگایا گیا جن میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کے گٹھ جوڑ سے لے کر خفیہ سرکاری معلومات افشا کرنے، دھوکہ دہی اور توہین عدالت کے الزامات شامل تھے۔
اس کے بعد محمد مرسی مسلسل قید میں ہی رہے اور17 جون 2019 کواس وقت جب وہ عدالت میں پیش کیے گئے تھے عدالت ہی میں گر کر بے ہوش ہوگئے اور بعدازاں زندگی کی بازی ہار گئے۔

یہ بھی پڑھیں

آپ کی اور ایم ایف حسین کی پہلی ملاقات کہاں پر ہوئی تھی

آپ کی اور ایم ایف حسین کی پہلی ملاقات کہاں پر ہوئی تھی

کامنا پرساد مشہور مصنفہ اور اردو پرست ہیں۔ ان کو ایم ایف حسین کو بہت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے