گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ کی جانب سے ہڑتال کی کال پر طبی عملہ کا احتجاج

گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ کی جانب سے ہڑتال کی کال پر طبی عملہ کا احتجاج

کراچی: ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری کرنے اور تربیتی ہسپتالوں کی خالی اسامیوں پر نرسنگ اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو تعینات کرنے کا مطابل بھی شامل تھا

کراچی میں احتجاج میں شریک ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ صرف کورونا وائرس ہی طبی عملے کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی جیسی بیماریاں بھی خطرہ ہیں اس لیے رسک الاؤنس کو مستقل بنیادوں پر بحال ہونا چاہیئے۔
ہیلتھ الائنس نے حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پورے کیے جانے تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
محکمہ صحت نے حال ہی میں ’صوبے میں کووِڈ 19 کی شدت میں کمی‘ آنے کی بنیاد پر ہیلتھ رسک الاؤنس روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
گزشتہ اعلامیے کے تحت محکمہ صحت ڈاکٹروں کو ان کے گریڈز کے حساب سے رسک الاؤنس کی مد میں 17 سے 35 ہزار روپے دے رہا تھا۔
ادھر حیدرآباد کے لیاقت یونیورسٹی ہسپتال (ایل یو ایچ) کی او پی ڈیز بھی گزشتہ روز بند رہیں اور طبی عملے بشمول ڈاکٹرز اور نرسز نے سندھ حکومت کی جانب سے رسک الاؤنس ختم کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔
طبی ورکرز نے بھٹائی، قاسم آباد، پریت آباد،کوشر ہسپتال وار محکمہ صحت سندھ کے دیگر مراکز میں بھی او پی ڈیز کا بائیکاٹ کیا۔
ان کا مطالبہ تھا کہ رسک الاونس جاری رہنا چاہیئے اور محکمہ صحت کے ملازمین کو بھی ٹائم اسکیل کی اجازت ہونی چاہیئے۔
ڈاکٹر پیر منظور نے کہا کہ جب حکومت نے رسک الاؤنس کا اعلان کیا تھا اسوقت اس نے سروس اسٹرکچر، کورونا کے باعث مرنے والے ماہرین صحت کے لیے شہدا پیکج وغیرہ سےمتعلق 23 نکات پر اتفاق کیا تھا لیکن صرف الاؤنس دیا گیا وہ بھی صرف 3 ماہ جبکہ دیگر مطالبات اب بھی زیر التوا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

انڈس اسپتال میں کورونا وائرس کی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع ہوگیا

انڈس اسپتال میں کورونا وائرس کی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع ہوگیا

کراچی: چین کی دو کمپنیوں نے کورونا ویکسین پر کام کیا، پاکستان میں ویکسین کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے