جوگندر ناتھ منڈل پاکستان کے پہلے وزیر قانون

جوگندر ناتھ منڈل پاکستان کے پہلے وزیر قانون

تاریخ کے ایک اہم کردار، جوگندر ناتھ منڈل، نے 70 برس قبل اُس وقت کے وزیر اعظم کو لکھے گئے اپنے استعفے میں مذہبی جنونیت کے فروغ کا ذمہ دار پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی مذہب کو ایک آلہِ کار کے طور پر استعمال کرنے اور پھر اس کے سامنے جھکنے کی روش کو قرار دیا تھا

بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی دعوت انھیں دی تھی۔ اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر قانون بھی تھے۔
جوگندر ناتھ منڈل کا تعلق بنگال کی دلت برادری سے تھا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے بنگال کی سیاست میں صرف برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی اہم معاملہ نہیں تھا بلکہ بعض لوگوں کی نظر میں اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ بنگال میں زمینداری نظام کی چکی میں پسنے والے کسان تھے جن میں زیادہ بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ اس کے بعد دلت تھے، جنھیں ’شودر‘ بھی کہا جاتا تھا لیکن انگریزوں کے زمانے میں انھیں ’شیڈول کاسٹ‘ کہا جانے لگا تھا۔
غیر منقسم بنگال کی کُل آبادی پانچ کروڑ دس لاکھ نفوس پر مشتمل تھی، جن میں 80 لاکھ دلتوں سمیت ہندوؤں کی کُل تعداد دو کروڑ بیس لاکھ تھی جبکہ مسلمانوں کی آبادی تقریباً دو کروڑ اسی لاکھ تھی۔ اونچی ذات کے ہندؤوں ’بھدرو لوک‘ کی کُل تعداد 30 لاکھ تھی۔
اس طرح مسلمانوں کی آبادی 54 فیصد تھی، جبکہ اس کے بعد دلت تھے اور پھر ہندو برہمن۔ مسیحی اور دیگر مذاہب ایک بہت ہی چھوٹی اقلیت تھے۔
دلتوں میں جس نسلی گروہ کی سب سے زیادہ تعداد تھی وہ ’مہیشیا‘ تھے جن کی تعداد 35 لاکھ تھی اور اس کے بعد دلتوں کا دوسرا بڑا گروہ ’نامہ شودرا‘ تھے۔ اس گروہ سے جوگندر ناتھ منڈل کا تعلق تھا جو تقسیم سے پہلے کی سیاست میں دلتوں کو مسلم لیگ کے بہت قریب لے آئے تھے۔ وہ سنہ 1930 کی دہائی سے مسلم لیگ کے ایک مضبوط اتحادی تھے۔
پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 11 اگست سنہ 1947 کو ہوا تھا یعنی باقاعدہ آزادی سے تین روز قبل۔ اور جب انڈیا اور پاکستان کو 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب کو آزادی ملی تو دلتوں کے ساتھ تعلقات کے سانچے کو مسلم لیگ نے ڈھال دیا تھا۔
انڈیا اور پاکستان دونوں کے پہلے وزیر قانون دلت تھے
انڈیا میں بھی قانون سازی کا عمل شروع ہوا تو وہاں نہرو نے بھی اپنی کابینہ میں ایک غیر کانگریسی دلت رہنما ڈاکٹر امبیدکر کو انڈیا کا پہلا وزیرِ قانون نامزد کیا جن کے ذمے ملک کا پہلا آئین بنانا تھا۔
بانیِ پاکستان جناح کی تقریر صرف ایک ویژن ہی نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی حکمتِ عملی بھی تھی۔ اور اسی حکمتِ عملی کے مطابق انھوں نے تقریر سے پہلے بنگال کے ہندو دلت رہنما جوگندر ناتھ منڈل سے قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرائی۔ (یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر پہلے سپیکر کے طور پر منڈل کا نام اب موجود نہیں ہے)۔
منڈل بنگال کے ایک قصبے باقر گنج میں کسانوں کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد کی خواہش تھی کہ گھر میں کچھ ہو یا نہ ہو، اُن کا بیٹا تعلیم ضرور حاصل کرے۔
منڈل کی تعلیم کے لیے مالی مدد ان کے ایک بے اولاد چچا نے فراہم کی۔ مقامی سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے بنگال کے علاقے باڑی سال میں واقع بہترین تعلیمی ادارے برج موہن کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ باڑی سال مشرقی بنگال جو بعد میں مشرقی پاکستان بنا، کا کا ایک شہر تھا۔
انھوں نے تعلیم کے بعد باڑی سال کی میونسپل سرگرمیوں سے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور نچلے طبقے کی حیثیت کو بہتر کروانے کے لیے جدوجہد شروع کی۔ اگرچہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے حامی نہیں تھے مگر انھوں نے محسوس کیا تھا کہ اونچی ذات کے ہندوؤں میں رہتے ہوئے شودروں کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے ہیں اور اسی لیے پاکستان اُن کے لیے ایک بہتر موقع ہو سکتا ہے۔
جب انھوں نے جناح کی یقین دہانیوں کے بعد پاکستان جانے کا فیصلہ کیا تھا تو انھیں اُن کے ساتھی اور انڈیا کے سب سے بڑے دلت رہنما ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیدکر نے خبردار کیا تھا۔ ڈاکٹر امبیدکر کا اپنا تعلق مہاراشٹر سے تھا۔
قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جس طرح ڈاکٹر امبیدکر انڈیا کے وزیرِ قانون بنے، اُسی طرح جوگندر ناتھ منڈل بھی پاکستان کے وزیرِ قانون بنے۔ اور پھر دونوں کو چند برسوں کے بعد اپنے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا۔
منڈل آٹھ اکتوبر 1950 کو مستعفی ہوئے، جبکہ امبیدکر نے 27 ستمبر 1951 کو استعفیٰ دیا۔ دونوں میں فرق یہ تھا کہ منڈل مایوس ہو کر مستعفی ہوئے اور ملک کا آئین بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکے جبکہ امبیدکر نے انڈیا کا آئین جنوری سنہ 1950 میں مکمل کر کے اپنا تاریخی کردار بہرحال ادا کیا۔
آئین بننے کے بعد امبیدکر نے ہندوؤں کے وراثت کے قانون میں لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر جائیداد میں حق کے لیے قانون سازی کی کوشش کی، جس میں ناکامی پر استعفیٰ دے دیا۔
پاکستان کے بانی اور ملک کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر میں انھوں نے پاکستان کے مستقل کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ملک کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ریاست کو مذہب سے الگ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
جناح نے یہ بھی کہا تھا کہ ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہیں رہے گا اور نہ مسلمان مسلمان رہے گا، مذہبی لحاظ سے نہیں کیونکہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، بلکہ سیاسی لحاظ سے ایک ریاست کے شہری ہوتے ہوئے۔
جناح نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ہم ایک ایسے دور کی جانب سفر کرنے جا رہے ہیں جب کسی سے بھی کوئی امتیازی سلوک نہیں ہو گا، ایک کمیونٹی کو دوسری پر فضیلت نہیں دی جائے گی، کسی ذات یا نسل سے امتیازی سلوک نہیں ہو گا۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ہم سب اس ریاست کے برابر کے شہری ہیں۔
کیا پاکستان نے منڈل کے ساتھ زیادتی کی؟
پروفیسر انیربان بندھیوپادھیائے کہتے ہیں کہ یہ جاننا کہ جوگندر ناتھ منڈل کے ساتھ پاکستان میں زیادتی ہوئی تھی آسان کام نہیں ہے۔
پروفیسر بندھیوپادھیائے انڈین ریاست گجرات کے شہر گاندھی نگر کے کٹناوتی کالج کے شعبہِ تاریخ سے وابستہ ہیں اور امبیدکر اور منڈل پر ایک تحقیقاتی مقالے کے مصنف ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس بارے میں ایک منصفانہ جواب تبھی دیا جا سکے گا جب کوئی تاریخ دان پاکستان کے آرکائیوز کو کھنگالے۔
(منڈل) نے اپنا موقف اپنے طویل ٹائپ شدہ استعفیٰ میں پیش کر دیا تھا جو انھوں نے اپنی سرکار کو بھیجا تھا۔ یہ استعفیٰ بہت واضح ہے۔ اصل میں سوال ٹھیک طریقے سے ہونا چاہیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ (نئی ریاست) کے مستقبل کے شہریوں کے لیے برابری کے حقوق دیے جانے کے بلند و بانگ دعوے جناح نے کیے تھے۔ ان کے ساتھ تو خود کچھ دھوکہ ہوا اور کچھ بے وفائی کی گئی۔‘
پروفیسر بندھیوپادھیائے کہتے ہیں کہ جناح ’واقعی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ جو مذہبی قوم پرستی کا عفریت انھوں نے چھوڑا تھا وہ اُس پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اُن کی یہ سوچ غلط ثابت ہوئی۔ وہ ایک بہت ہی شریف النفس انسان تھے جنھوں نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ آنے والے دنوں میں ان کی اچانک موت نے پاکستان کے انتہا پسندوں کو عملاً شترِ بے مہار کر دیا۔‘
’یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ منڈل کو اُس ماحول میں مکمل طور پر غیر اہم بنا کر الگ تھلگ کر دیا گیا تھا، اُن کے لیے زندگی اتنی تنگ ہو گئی تھی کہ انھیں پاکستان سے بھاگنا پڑا۔ اگر انھیں کسی بات سے پاکستان میں دھوکہ ہوا تھا تو وہ جناح کا اپنے اختیار کے بارے میں غلط اندازہ تھا۔
علی عثمان قاسمی کہتے ہیں کہ ’(جناح) ایک علامتی نمائندگی سے زیادہ اہم بات پیش کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے (سنہ 1949 میں) منڈل کا قراردادِ مقاصد کی منظوری کے بعد پاکستان چھوڑ کر چلے جانا پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت اہم موڑ ہے کیونکہ اب وہ دیکھ سکتے تھے کہ نئی ریاست (پاکستان) کا سفر جناح کے ویژن سے مختلف ہو چکا ہے۔‘
جوگندر ناتھ منڈل ایک دن کے لیے قانون ساز اسمبلی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے، اگلے دن محمد علی جناح اس کے صدر منتخب ہوئے۔ لیکن جب پاکستان کی پہلی کابینہ میں منڈل کو وزیرِ قانون بنایا گیا تھا اور جب تک جناح بقیدِ حیات رہے انھوں نے بظاہر کوئی شکایت نہیں کی۔
بانیِ پاکستان محمد علی جناح کے انتقال کے بعد کئی ایک ایسے واقعات ہوئے جن سے جوگندر ناتھ منڈل اس بات سے مایوس ہو گئے کہ اس ملک میں اقلیتوں کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے انھیں اب پورا کرنے والا کوئی نہیں ہے، بلکہ ایسے افراد حکومتی عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں جو بہت زیادہ شدّ و مد کے ساتھ مذہب کو ریاست پر مسلط کر رہے ہیں۔
سب باتوں کو اگر اکھٹا کر کے دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ’منڈل نے مغربی بنگال میں دلت سیاست کرنے کی ناممکنات کو نہ زیادہ طاقتور سمجھا، اور نہ ہی بظاہر نامعلوم رکاوٹوں کو، جنھوں نے ہمیشہ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالے رکھیں، درخو اعتنا سمجھا۔ جیسا کہ (منڈل) کے ایک واقف وکیل کہتے ہیں کہ انھوں نے منڈل کو ڈھلتی عمر کے دنوں میں ایک بار یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ ’میں نے محسوس کیا ہے کہ زندہ درگور کیا جانا کیسا ہوتا ہے۔
منڈل نے پاکستان آ کر کتنی بڑی غلطی کی یا آیا یہ غلطی تھی بھی، ابھی اس بات کا بھی طے کیا جانا باقی ہے۔ پروفیسر سین کے خیال میں بنگال میں دلتوں کی سیاست ان کی موت کے ساتھ شکست کھا گئی۔ لیکن اکیسویں صدی کے حالات جن میں انتہا پسند ہندو نہ صرف اقلیتوں کے لیے بلکہ دلتوں کے لیے ایک مرتبہ پھر سے زندگی تنگ کر رہے ہیں، لگتا ہے کہ انڈیا میں ایک نئے جوگندر ناتھ منڈل کی ضرورت جنم لے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

آپ کی اور ایم ایف حسین کی پہلی ملاقات کہاں پر ہوئی تھی

آپ کی اور ایم ایف حسین کی پہلی ملاقات کہاں پر ہوئی تھی

کامنا پرساد مشہور مصنفہ اور اردو پرست ہیں۔ ان کو ایم ایف حسین کو بہت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے