آرمینیا اور آذربائیجان نے متنازع نوگورنو قرہباخ خطے میں عارضی جنگ بندی کا اعلان

آرمینیا اور آذربائیجان نے متنازع نوگورنو قرہباخ خطے میں عارضی جنگ بندی کا اعلان

آذر بائیجان: اب تک دونوں ممالک کے درمیان 27 ستمبر سے شروع ہونے والی اس کشیدگی کے باعث 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں

معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق دن 12 بجے فائر بندی عمل میں آئے گی تاکہ دونوں اطراف سے قیدیوں اور لاشوں کا تبادلہ کیا جا سکے۔
ناگورنو قرہباخ کو بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن سنہ 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد سے اس کا حکومتی انتظام آرمینیائی نسل کے مقامی افراد کے پاس ہے۔
حالیہ برسوں میں ناگورنو قرہباخ پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ہونے والی یہ سخت ترین لڑائی ہے جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پُرتشدد کارروائیوں کے الزامات لگائے ہیں۔
دونوں ممالک سوویت یونین کے خاتمے سے قبل اس کے زیرِ انتظام تھے اور ان دونوں نے حالیہ کشیدگی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی ہے۔
روس کا آرمینیا میں ایک فوجی اڈہ ہے جبکہ دونوں ممالک تنظیم کلیکٹو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) کے رکن بھی ہیں۔ تاہم ماسکو کے آذربائیجان کے ساتھ بھی اچھے روابط ہیں۔
جمعے کے روز آرمینیا کی وزارتِ دفاع کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے مطابق ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود پورا دن جھڑپیں جاری رہیں۔
جمعرات کے روز آرمینیا نے الزام عائد کیا تھا کہ آذربائیجان نے متنازع علاقے ناگورنو قرہباخ میں جاری لڑائی کے دوران ایک تاریخی گرجا گھر کو گولہ باری کا نشانہ بنایا ہے۔
آذربائیجان نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کے دوسرے سب سے بڑے شہر گینجہ اور گوران بائے کے علاقے میں آرمینی فوج نے گولہ باری کی ہے جس میں کم از کم ایک شہری ہلاک ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے