نگورنو کاراباخ میں سیز فائر کرنے پر رضا مندی

نگورنو کاراباخ میں سیز فائر کرنے پر رضا مندی

یریوان: وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمینیا آرگنائزیشن فار سیکیورٹی اینڈ کوپریشن اِن یورپ (او ایس سی ای) کے ساتھ کاراباخ پر دوبارہ سے سیز فائر کرنے پر تیار ہے

وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ نگورنو کاراباخ کے خلاف جارحیت جاری رہی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا۔
امریکا، فرانس اور روس، آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان کاراباخ کے معاملے پر تنازع کے حل کیلئے 1992 میں بننے والی او ایس سی ای کے شریک سربراہ ہیں، ان ممالک نے فوری طور پر آرمینیا اور آذربائیجان سے سیز فائر کا مطالبہ کیا تھا۔
آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے معاملے پر اتوار سے جاری جھڑپوں میں آرمینیا کے مزید 54 فوجی ہلاک ہوگئے جس سے ہلاکتوں کی تعداد 158 تک جا پہنچی ہے۔
آذربائیجان کی جانب سے اب تک کسی فوجی کی ہلاکت رپورٹ نہیں کی گئی ہے تاہم آرمینین شیلنگ میں 19 عام شہریوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
ترکی کا کہنا ہےکہ اس معاملے میں ان تین ممالک کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔
بین الاقوامی طور پرترکی آذربائیجان کا بڑا حمایتی ملک ہے جب کہ آرمینیا میں روس نے فوجی اڈہ قائم کررکھا ہے۔
گزشتہ دنوں فرانس کے وزیراعظم میکرون نے ترکی پر الزام عائد کیا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ عسکریت پسند گروپوں کے 300 جنگجو ترکی سے آذربائیجان کے راستے شام میں داخل ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے