کووڈ-19 کی ویکسین آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وبا ختم

کووڈ-19 کی ویکسین آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وبا ختم

لندن: ڈیٹا ایویلیویشن اینڈ لرننگ فار وائرل ایپی ڈیمکس کا کہنا ہے کہ کورونا کی ویکسین ابتدائی طور پر جزوی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے

ممکن ہے کہ وہ سب کے لیے کام نہ کرے اور صرف قلیل مدتی قوت مدافعت فراہم کرے
کورونا کی ویکسین کے حوالے سے اس کی تیاری، تقسیم اور عوامی قبولیت جیسی ممکنہ پریشانیوں کا بھی امکان ہے۔
امپیریل کالج لندن کے نیشنل ہارٹ اینڈ لنگس انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر فیونا کُلی کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویکسین کو وبائی مرض کو ختم کرنے کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن لوگوں کو اس سے متعلق اپنی توقعات پر زیادہ حقیقت پسندانہ ہونے کی ضرورت ہے۔
کامیاب ویکسینز کا سفر بے شمار پریشانیوں سے بھرا ہوتا ہے جس کے بعد وہ جیسا ہم چاہتے ہیں اس ہی طرح مؤثر کام کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔
عالمی وبا کورونا وائرس کا خاتمہ کرنے کے لیے سائنسدانوں نے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے کم وقت میں بڑی پیشت رفت کی ہے اور دنیا بھر میں تقریباً 200 سے زائد ویکسین آزمائشی مراحل میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بیٹھنے کے بعد کھڑے ہونے پر چکر محسوس ہونے کو آرتھو اسٹیٹک ہائپو ٹینشن کہا جاتا ہے

بیٹھنے کے بعد کھڑے ہونے پر چکر محسوس ہونے کو آرتھو اسٹیٹک ہائپو ٹینشن کہا جاتا ہے

تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے پروفیسر لارا راؤچ کا کہنا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے