بلوچستان حکومت کی طرف سے شروع کی گئی خصوصی ڈیولپمنٹ پر پابندی عائد کردی

بلوچستان حکومت کی طرف سے شروع کی گئی خصوصی ڈیولپمنٹ پر پابندی عائد کردی

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے بلوچستان اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی اپوزیشن جماعتوں کی آئینی درخواست کو قبول کرلیا، مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا

چیف جسٹس مندوخیل نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بلوچستان حکومت کی طرف سے شروع کی گئی خصوصی ڈیولپمنٹ پر پابندی عائد کردی ہے اور بلڈوزر کے اوقات کے لیے فنڈز مختص کرنے اور ریسٹ ہاؤسز اور اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دے دیا، ان منصوبوں کو صوبائی حکومت نے پی ایس ڈی پی 21-2020 کے سالانہ بجٹ میں شامل کیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کے لیے صاف پانی کی فراہمی کے ایک بھی اہم منصوبے کو بجٹ میں شامل نہیں کیا ہے جبکہ گوادر، جوہانی اور دیگر علاقوں کے لیے پی ایس ڈی پی 21-2020 میں پانی کی فراہمی کی کوئی اسکیم نہیں مل پائی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ صوبائی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں پی سی ون تیار کیے بغیر مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تجویز پیش کی تھی اور منصوبہ بندی و ترقی کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے جان بوجھ کر پی سی ون کے بغیر ترقیاتی بجٹ میں ان اسکیموں کو شامل کیا تھا جو غیر قانونی اور قواعد کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے مجوزہ منصوبوں کا پی سی ون تیار کیے بغیر پی ایس ڈی پی میں جان بوجھ کر مختلف اسکیموں کو شامل کرنے کے لیے منصوبہ بندی اور ترقی کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کردیا۔
سینئر وکیل ایڈووکیٹ ساجد ترین نے بلوچستان اسمبلی کے حزب اختلاف کے 22 ممبروں کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی تھی اور اس مقدمے میں ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ارباب طاہر کاسی نے صوبائی حکومت کی نمائندگی کی۔

یہ بھی پڑھیں

اسپیشل کورٹ کے فیصلے کے خلاف جلد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے

اسپیشل کورٹ کے فیصلے کے خلاف جلد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے

کوئٹہ: ایڈیشنل آئی جی بلوچستان عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ کیس میں اپیل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے