حکومت کی جانب سے 11 کھرب روپے مالیت کے کراچی ٹرانسفارمیشن پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا

حکومت کی جانب سے 11 کھرب روپے مالیت کے کراچی ٹرانسفارمیشن پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا

اسلام آباد: اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں سے ایک ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر 20 ہزار ٹن ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے جبکہ متعلقہ حکام کی صلاحیت یہ ہے کہ وہ صرف ایک دن میں 3 سے 4 ٹن اٹھاسکتے ہیں

مشاہدہ کیا کہ کہ باقی کچرا گراؤنڈز، خالی پلاٹوں، سڑک کے کنارے، عوامی پارکوں اور نالوں کے ساتھ پھینک دیا جاتا ہے، انہوں نے کراچی میں ٹھوس کچرے کو مناسب طریقے سے ضائع کرنے کے لیے ایک جدید اور سائنسی لینڈ فل سائٹ کی تجویز پیش کی۔
یہ مشاہدہ کیا گیا کہ اس طرح کی جدید لینڈ فل سائٹ پاکستان کے کسی بھی شہر میں قائم نہیں کی گئی جس میں منصوبہ بند وفاقی دارالحکومت بھی شامل ہے۔
اجلاس میں اس پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ گھر کے کچرے کو مناسب طریقے سے ضائع کرنے کے بارے میں عوامی بیداری بھی ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ لوگ براہ راست بارشوں کے پانی کے نالوں میں کچرا نہ پھینکیں۔
اس کے علاوہ پانی کو کم کرنے کے لیے ایک ماحولیاتی مطالعہ بھی تجویز کیا گیا۔
پی ای سی کے اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ حکومت بارشوں کے پانی کی نکاسی کے انتظام کے لیے ایک الگ اتھارٹی قائم کرے۔
اس نے شہر میں بارشوں کے پانی کی نکاسی کے لیے علیحفہ اتھارٹی بنانے کی بھی تجویز دی اور مشاہدہ کیا کہ کراچی میں کثیر المنزلہ عمارتوں نے 50 سالہ قدیم سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو تباہ کردیا ہے۔
تھنک ٹینک کا کہنا تھا کہ حکام نے بارش کے پانی کے نکاسی کے نظام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی کیونکہ 1985 سے 2005 تک کم از کم 20 سال تک کراچی میں زیادہ سے زیادہ سالانہ بارش 100 ملی میٹر سے کم رہی۔
اس سال مون سون کی بارشوں نے 24 گھنٹوں میں 233 ملی میٹر بارش کے ساتھ 50 سالہ ریکارڈ توڑ دیا جس سے شہر کے بیشتر حصے تالاب بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

اسلام آباد: جاوید اقبال نے سندھ کے چیف سکریٹری ممتاز علی شاہ کو 22 کروڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے