آئندہ بجٹ میں بینک لین دین پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کا امکان

اسلام آباد:  وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں بینکوں کے ذریعے رقوم نکلوانے پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کم کیے جانے کا امکان ہے جبکہ آن لائن رقوم کی ٹرانسفر سمیت تما م بینکنگ ٹرانزیکشنز پر عائدایڈوانس ٹیکس قابل ٹیکس ٹرانزیکشن کی حد ایک لاکھ کرنے اور بیوائوں طالبعلموں اور کسانون کو چھوٹ دینے کی تجویز زیرغورہے۔

ذرائع کے مطابق بینکوں سے رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح عائد کرنے کے حوالے سے 3 تجاویز زیر غور ہیں جن میں ٹیکس گوشواے جمع کروانے والوں کے لیے یہ شرح صفر اعشاریہ ایک فیصد اور گوشوارے جمع نہ کروانے والوں کے لیے یہ شرح صفر اعشاریہ 3 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

مائیکرو فنانس بینکوں کی جانب سے جاری کردہ چھوٹے قرضوں کو چھوٹ دینے کی تجویز زیرغور ہے ذرائع نے بتایاکہ انکم ٹیکس آرڈیننس 231 Aمیں ترمیم کی تجویز زیر غور ہے،  اس کے مطابق مائیکر فنانس بینک 50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے والے پر ٹیکس کی شرح کے حساب سے کٹوتی کریں گے لیکن جو چھوٹے قرضہ لیتے رہتے ہیں وہ اس کٹوتی سے مستثنی ہو ں گے۔

ذرائع کا کہناہے کہ اس تجویز سے ملک میں مائیکروفنانس  کے شعبے کو فروغ حاصل ہو گا جبکہ انکم ٹیکس کی شق 231 A اور 231AA  دونوں میں ترامیم زیر غور ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایاکہ شق نمبر236P گوشوارے جمع نہ کروانے والوں کے لیے ہے۔ بینکوں کی تمام ٹرانزیکشنز کے لیے اس پر صفراعشاریہ 4 فیصد کی شرح زیر غور ہے۔

علاہ ازیں ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کے دوران اس میں بیواؤں، طالبعلموں، پنشنرز، کاشتکار اور تنخواہ دار طبقے کو چھوٹ دیے جانے کی تجویز ہے۔ ٹیکس کے لیے ٹرانزیکشن کی حد ایک لاکھ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ڈالر کی قیمت پھر بڑھنا شروع

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 60 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں مزید 20 پیسے مہنگا ہوگیا۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے