میٹروپولیٹن کارپوریشن(کے ایم سی) کے گھوسٹ ملازمین کے نام پر 5 ارب روپے کھا رہا تھا

میٹروپولیٹن کارپوریشن(کے ایم سی) کے گھوسٹ ملازمین کے نام پر 5 ارب روپے کھا رہا تھا

اسلام آباد: چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سندھ میں بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات سے متعلق درخواستوں کی سماعت

‘حالیہ مصیبت میں کے ایم سی کے 20 ہزار ملازمین کہاں غائب ہوگئے تھے کہ جب کراچی کے شہریوں نے بارشوں اور گھر میں گھسنے والے سیویج کے پانی کا سامنا کیا اور سڑکوں پر کئی دن تک پھنستے رہے’۔
بینچ ماضی قریب میں بلدیاتی حکومت کے نظام کی کارکردگی سے خوش نظر نہیں آیا۔
سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی دائر کردہ درخواست پر اپنے دفتر کے اعتراضات مسترد کر کے اسے سماعت کے لیے منظور کیا۔
درخواست میں آئین کی دفعات، 140-اے، 3، 4، 9، 14، 16، 17، 19، 19-اے اور 25 کے تحت سندھ حکومت کو بلدیاتی اداروں کو اختیار منتقل کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی گئی تھی۔
بینچ نے اسد علی خان کی درخواست بھی سننے کا فیصلہ کیا جو انہوں نے اپنے وکیل نوازش پیرزادہ کے توسط سے دائر کی تھی، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ پنجاب میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 نافذ کر کے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو 31 دسمبر 2021 تک ان کی آئینی مدت ختم ہونے سے قبل تحلیل کرنے کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین کو عدالت کی معاونت کے لیے نوٹسز بھی جاری کیے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا کیس پیش کرنے والے سینئر وکیل صلاح الدین احمد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جو ان کے مؤکل نے کراچی میں کیا وہ مکمل گندگی ہے۔
چیف جسٹس نے جب یہ ریمارکس دیے اس وقت عدالت میں کراچی کے سابق میئر وسیم اختر اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
چیف جسٹس نے اس بات کو یاد کیا کہ کس طرح ان محکموں کو ملازمین صبح کے آغاز سے دوپر 3 بجے تک اپنا کام کرتے رہتے تھے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘کے ایم سی کے ملازمین اور صفائی کا عملہ کبھی کیوں نظر نہیں آیا’۔
یہاں گھوسٹ ملازمین ہیں اور کوئی ان کی تنخواہیں کھا رہا ہے، اگر کوئی بہت اچھا قانون بھی نافذ کردیا جائے تو کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔
صلاح الدین احمد نے کہا کہ وہ یہاں ایم کیو ایم کی ماضی کی کارکردگی کا دفاع کرنے نہیں آئے، وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ احتساب کو قانون میں شامل کر کے بلدیاتی حکومت کے نظام کو معقول بنایا جائے، پھر ایک موقع ہوگا کہ چیزیں بہتر ہوجائیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ یہ تصور کہ بلدیاتی نظام متعارف کروانے سے نظام بہتری آئے گی لیکن یہ نہیں ہوا اور ماضی کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جب سیاسی مفادات آئے تو بلدیاتی نظام مزید خراب ہوا کیوں کہ سیاسی مفادات کے ساتھ مالی مفادات بھی آئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اصل مسئلہ مختلف اداروں اور محکموں کے مابین تعاون کے فقدان کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

اسلام آباد:عثمان ڈار نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط لکھ کر خواجہ آصف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے