افغان جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اب پہلے سے زیادہ اہم کردار ہے

افغان جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اب پہلے سے زیادہ اہم کردار ہے

واشنگٹن: ولیم ای ٹوڈ، جنہیں رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نامزد کیا تھا، نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان ایک پیچیدہ مگر اہم امریکی شراکت دار ہے اور واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کرنے کا خواہاں ہے

سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجی تعلقات کو بتایا کہ ‘امریکا اور پاکستان کے وسیع تر تعلقات میں یہ ایک اہم وقت ہے، یہ دیرینہ اور اہم ہے تاہم ہمیشہ پیچیدہ اور کبھی کبھی متنازع بھی ہے’۔
دونوں اتحادیوں میں اختلافات ہیں ولیم ای ٹوڈ نے کہا کہ ‘پاکستان ایک ضروری علاقائی شراکت دار ہے اور مشترکہ اہداف پر مل کر کام کرنے کے لیے ہمارے تعلقات میں یہ ایک اہم لمحہ ہے’۔
نئے امریکی سفیر نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام لانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون ضروری تھا۔
افغانستان میں امن دونوں ممالک کے بہترین مفاد میں ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے امریکا اور پاکستان کا مؤثر تعاون ضروری ہے’۔
سفیر نے اپنے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کی 2018 میں اسلام آباد میں کی جانے والی تقریر کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے اپنے میزبانوں سے کہا تھا کہ معاشی، کاروبار اور تجارتی جیسے ایک وسیع میدان میں تعلقات کو کس طرح بحال کرنا ہے۔
‘ایسا کرنے کے لیے ہمیں افغانستان کے مسئلے کا ایک پرامن حل تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے یقینی طور پر افغانستان کو فائدہ ہو بلکہ امریکا اور پاکستان کو بھی اس سے فائدہ ہو’۔
متعدد سینئر امریکی عہدیداروں نے اعتراف کیا تھا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
واشنگٹن کو اُمید ہے کہ اس معاہدے سے بالآخر افغانستان میں 19 سالہ جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا اور وہ جنگ زدہ ملک سے اپنی فوجیں واپس بلاسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا بھر میں کرونا وائرس انفکیشن سے اموات کی تعداد 11 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر گئی

دنیا بھر میں کرونا وائرس انفکیشن سے اموات کی تعداد 11 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر گئی

شنگھائی: نجی سافٹ ویئر سلوشن کمپنی کی ریفرنس ویب سائٹ ورلڈومیٹر کے اعداد و شمار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے