ریلوے میں کوئی نظام ہی نہیں جس کے تحت لوگوں کو نوکری پر رکھیں

ریلوے میں کوئی نظام ہی نہیں جس کے تحت لوگوں کو نوکری پر رکھیں

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ریلوے ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت کی

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریلوے کی اپیل خارج کرتے ہوئے ملازمین کی بھرتیوں کی ناقص پالیسی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریلوے میں ملازمین کی بھرتیوں کی کوئی پالیسی نہیں، ریلوے انتظامیہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں، ریلوے میں کوئی سسٹم ہی نہیں جس کے تحت لوگوں کو نوکری پر رکھیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ملازمین 10، 10 سال سے ریلوے میں ملازمت کر رہے ہیں ،بھرتیوں کے وقت قابلیت اور میرٹ کیوں نہیں دیکھا جاتا ، ملازمین کو رکھ لیتے ہیں پھر کہتے ہیں کوئی پالیسی ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

خواجہ آصف نے وزیر اعظم اور مجھ پر انھیں جانی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا

اسلام آباد:عثمان ڈار نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط لکھ کر خواجہ آصف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے