سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان

کراچی: سینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت میں 2ستمبر کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،جسے 17ستمبر کو سنایا جانا تھا تاہم عدالت نے فیصلہ 22ستمبر تک مؤخر کردیا

بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں پیش آنے والے سانحے کا مقدمہ تقریباً 9سال تک زیرِسماعت رہا۔
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں حب ریور روڈ پر واقع گارمینٹس فیکٹری علی انٹرپرائزز میں بھتہ نہ دینے پرلگائی جانے والی آگ میں کئی بے قصور خاندان اجڑ گئے تھے، 11 ستمبر 2012 کو فیکٹری کے باہر موجود بے بسی کی تصویر بنے لواحقین اپنے پیاروں کی چیخ و پکار سن کر بھی کچھ نہ کرسکے جبکہ فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ میں 259افراد زندہ جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔
لواحقین کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جس طرح کی امداد ہونی چاہیئے،وہ نہیں ملی سکی۔
چھ فروری 2015 کو عدالت میں رینجرز نے ایک رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا گیا کہ کلفٹن سے ناجائز اسلحہ کیس میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی۔
سانحہ بلدیہ کیس انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے جہاں آج مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے ۔ مقدمےمیں استغاثہ کی جانب سے768 گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی گئی تھی جس میں سے 400 سے زائد گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں جبکہ 364 گواہوں کے نام نکال دیئے گئے تھے ۔
جن گواہان کے بیانات قلمبند کئے گئے ان میں زخمی، عینی شاہدین، جاں بحق افراد کے لواحقین، ڈاکٹرز، فارنزک اور کیمیکل ایکسپرٹ، فیکٹری مالکان ، جے آئی ٹی کے تفتیش کار ، سابق و موجودہ تفتیشی افسران سمیت دیگرمحکموں کے افسران شامل ہیں ۔
مقدمے میں متحدہ کا بلدیہ سیکٹر انچارج رحمان بھولا اور زبیر چریا گرفتار ہیں جبکہ متحدہ رہنما رؤف صدیقی ، علی محمد ، ارشد محمود ،فضل احمد جان ، شاہ رخ لطیف ،عمر حسن قادری اور ڈاکٹر عبدالستار عبوری ضمانت پر رہا ہیں جبکہ مقدمے میں متحدہ کے حماد صدیقی اور علی حسن قادری مفرور ہیں ۔
مقدمہ میں تاخیر کی وجہ مرکزی ملزم حماد صدیقی کی عدم گرفتاری ، جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل درآمد نہ ہونے اور دیگر ملزمان کے تاخیری حربے رہے ، عدالت کی جانب سے حماد صدیقی کے کئی ریڈ وارنٹ جاری کئے گئے تاہم تفتیشی حکام ملزم کو بیرون ملک سے گرفتار کرکے ملک واپس لانے میں ناکام ر ہے ، ملزم کی گرفتاری سے مزید شواہد حاصل کئے جاسکتے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں

پہلی سہ ماہی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 24فیصد کی کمی واقع ہوئی

پہلی سہ ماہی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 24فیصد کی کمی واقع ہوئی

کراچی: اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2021 میں جولائی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے