وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف کیسز کی سماعت

وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف کیسز کی سماعت

اسلام آباد: شہزاد اکبر، سیکرٹری داخلہ نسیم کھوکھر، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات، آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار عدالت میں پیش ہوئے

عدالت کو معلوم ہوا ہے کہ اس شہر میں ریاست کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی، پولیس کے تفتیشی افسران اپنے کام میں ماہر نہیں، وفاقی حکومت کے ماتحت یہ شہر ماڈل ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے
اسلام آباد کچہری کو دیکھیں جس کی حالت بہت ابتر ہے، یہاں اس شہر میں صرف اشرافیہ کی خدمت کی جاتی ہے۔
عدالت نے مشیر داخلہ کو ہدایت کی کہ آپ اپنی مہارت کی بنیاد پر رپورٹ تیار کریں، وزیراعظم کو مشورہ دیں کہ یہاں عام لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، عدالت مطمئن ہے کہ وزیراعظم کے سامنے جب بھی معاملہ لایا وہ حل ہوا ہے۔
ہماری کمیٹی بنی ہے وہ لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کو دیکھ رہی ہے، یہ معاملہ صرف اسلام آباد تک نہیں بلکہ ملک کے دوسروں حصہ میں بھی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس پورے شہر میں مفادات کے ٹکراؤ کے علاوہ کچھ نہیں ہو رہا، وزارت داخلہ کے لوگ خود مفادات کے ٹکراؤ کا باعث بن رہے ہیں، وزیر اعظم کو بتائیں عام لوگ کیسے متاثر ہو رہے ہیں، اگر آئندہ کوئی واقعہ مسنگ پرسن کا ہو تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟
ایلیٹس کلچر اب ختم ہونا چاہیے، عام لوگوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے روزانہ پٹشنز آرہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

اسلام آباد: جاوید اقبال نے سندھ کے چیف سکریٹری ممتاز علی شاہ کو 22 کروڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے