بحریہ ٹاؤن نے ادائیگی کے شیڈول میں توسیع کی درخواست واپس

بحریہ ٹاؤن نے ادائیگی کے شیڈول میں توسیع کی درخواست واپس

کراچی: جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی جس میں کہا گیا کہ عدالت اس طرح کی دخواستوں کو قبل از وقت ہونے کی وجہ سے مسترد کررہی تھی جس پر سینیئر وکیل بیرسٹر سید علی ظفر نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے درخواست واپس لے لی

بحریہ ٹاؤن کراچی ک جانب سے ادائیگی کے شیڈول میں توسیع اور سندھ حکومت کی جانب سے لیز کے حقوق دینے کی درخواست کی گئی تھی کیوں کہ اسے یہ حقوق اپنے الاٹیز کو دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
21 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) میں 16 ہزار 896 ایکٹر رقبہ اراضی کی خریداری کے لیے 460 ارب روپے کی پیش کش کو کچھ شرائط و ضوابط کے ساتھ قبول کیا تھا۔
فیصلے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ زمین انکریمنٹ ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کے لیے دی گئی تھی تاہم ایم ڈی اے نے اسے بحریہ ٹاؤن کی اسکیم کے ساتھ بدل دیا تاکہ وہ اپنی اسکیم شروع کرسکے۔
چنانچہ درخواست کی سماعت میں بیرسٹر ظفر نے اپنے دلائل کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ وہ مایوسی کے عالم میں مدت میں توسیع کی درخواست کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کووِڈ 19نے معاشی نمو کو متاثر کیا ہے حتیٰ کہ حکومت نے بھی ادائیگیوں کے شیڈول میں قانونی مہلت دی ہے اور بحریہ ٹاؤن منصوبوں میں کوئی فروخت نہیں ہوئی بلکہ تعمیراتی سرگرمیاں بھی رک گئی ہیں۔
جس پر جسٹس  اعجاز الاحسن  نے کہا کہ دراصل وکیل عملدرآمد بینچ سے اپنے 21 مارچ کے حکم پر نظرِ ثانی کا کہہ رہے ہیں جو وہ نہیں کرسکتا۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ایک مرتبہ جب بینچ نے 4 مئی 2018 کے عدالتی فیصلے پر عملدرامد کیا جس کے بعد سے حکم نافذ ہوگیا تھا ہمیں اپنے پہلے کے حکم کی حدود میں رہنا پڑے گا۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کووِڈ 19 نے دنیا بھر میں لوگوں کو متاثر کیا ہے اور انہیں اب اس کے مطابق زندگی گزارتی ہے، محض اس لیے ایکسٹینشن نہیں دی جاسکتی کہ اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی یا سیلاب آگیا یا کوئی اور ہنگامی صورتحال پیش آگئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بینکس کاروباری حکمتوں کی وجہ سے ادائیگیوں کو دوبارہ شیڈول کررہئے ہیں لیکن یہاں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی بات ہے جس میں بحریہ ٹاؤن نے 4 کھرب 60 ارب روپے جمع کروانے کی ضمانت دی تھی۔
جسٹس منیب اختر نے بھی کہا کہ بحریہ ٹاؤن کو انتخاب کرنے کا موقع دیا گیا تھا جس کے بعد وہ ادائیگیوں کے شیڈول پر رضامند ہوا تھا اس لیے اب ڈیولپر اس پوزیشن میں نہیں کہ مزید کچھ طلب کر سکے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر عدالت اپنے حکم میں تبدیلی کرے گی تو اس سے غلط مثال قائم ہوگی، ساتھ ہی انہوں نے ڈویلپر کی جانب سے ہر ماہ ڈھائی ارب روپے جمع کروانے کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ عدالت سزا اور فیصلے کے الفاظ میں تبدیلی نہیں کرسکتی’۔

یہ بھی پڑھیں

سال 2020 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگیا

سال 2020 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگیا

اسلام آباد: سربراہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنل سینٹر فار پولیو (این ای او سی) ڈاکٹر صفدر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے