عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

اسلام آباد: چار سال سے لاپتہ آئی ٹی انجئنیر ساجد محمود کی بازیابی کے لیے اس کی اہلیہ کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں عدالتی احکامات کے باوجود پیش رفت نہ ہونے وپر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ، آئی جی اور ڈی سی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کی درخواست میں نوٹس جاری کردیے

عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ نمائندہ مقرر کریں جو آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہو۔عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں ۔اگر سیکریٹری داخلہ کا نمائندہ مطمئن نہ کر سکا تو سیکرٹری داخلہ پیش ہو۔
لاپتا شہری کے وکیل حیدر امتیاز نے کہا کہ عدالت نے دوسال قبل اپنے فیصلے میں چار قسم کی ہدایات جاری کیں تھیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ہدایت پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سنگل بنچ کا فیصلہ کہیں چیلنج ہوا تھا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ فیصلہ چیلنج ہوا تھا لیکن اس کا متعلقہ حکم معطل نہیں ہوا۔
وکیل نے کہا کہ عدالت نے حکومت کو ساجد محمود کی بازیابی تک اس کے گھر کے اخراجات اٹھانے کا حکم دیا تھا۔ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع ، چیف کمشنراور آئی جی پولیس کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا، وکیل اس وقت کے ایس ایچ او تھانہ شالیمار قیصر نیاز پرتین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔نہ بازیابی ہوئی، نہ جرمانہ ادائیگی نہ لاپتہ شہری کے گھر والوں کو ماہانہ خرچہ دیا جا رہا ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

اسلام آباد: دوران سماعت کراچی سرکلر ریلوے کا معاملہ زیر غور آیا تو چیف جسٹس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے