اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں 'کشمیر حل طلب تنازع' بھی شامل ہوگیا

اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں ‘کشمیر حل طلب تنازع’ بھی شامل ہوگیا

72 اسلام آباد: برس سے حل طلب مسئلہ کشمیر کو رواں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے نکالنے کے لیے بھارت کی تمام تر کوششیں ناکامی سے دوچار ہوگئیں

کونسل کی قرارداد 47 جو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا تقاضہ کرتی ہے 21 اپریل 1948 کو منظور کی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کی 75 ویں جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر کشمیری عوام کے مسائل اور بھارت کی وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے عالمی برادری سے اقدام اٹھانے کا مطالبہ کریں گے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے کہا کہ وزیر اعظم 5 اگست 2019 کو اٹھا ئے گئے بھارتی اقدام، جس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی تھی، کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کو یو این جی اے سے خطاب کریں گے اور غیر قانونی فنانسنگ سے متعلق ایک اعلی سطح اجلاس اور ‘بائیو ڈائیورسٹی سسمٹ’ میں شرکت کریں گے۔
یو این جی اے میں ہونے والے تمام خطابات یا سرگرمیاں کووڈ 19 کی وجہ سے ورچوئل ہوں گی یعنی عالمی رہنما 75 ویں یو این جی اے میں ظاہری طور پر اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔
سلامتی کونسل کا ایجنڈا قائم کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق وضع کیا گیا ہے اور اتفاق رائے کے بغیر اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ایک ممبر ریاست یکطرفہ طور پر ایجنڈے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔
منیر اکرم نے کہا کہ ‘ہم امید کرتے ہیں کہ جنرل اسمبلی حق خودارادیت کو برقرار رکھے گی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے رسائی کا مطالبہ کریں گی’۔
انہوں نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے علاوہ پاکستان دیگر مسلم ممالک کے ساتھ کام کرے گا جو اسلامو فوبیا کی مذمت اور اسلامی مذہبی مقامات کی حفاظت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

اسلام آباد: دوران سماعت کراچی سرکلر ریلوے کا معاملہ زیر غور آیا تو چیف جسٹس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے